مقبوضہ فلسطین

نابلس: اوصرین قصبے میں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان پرتشدد تصادم

شیعیت نیوز: شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس گورنری کے جنوب میں واقع اوصرین قصبے کے چوراہے کے قریب فلسطینی مزاحمتی نوجوانوں اور اسرائیلی قابض فوج کے درمیان ہفتے کی شام پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

قابض فوجیوں کی جانب سے فلسطینی نوجوانوں پر اسموک بموں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں دھویں کے بادل بلند ہوئے۔

اوصرین قصبے میں نوجوانوں نے گذشتہ روز نوجوان عمار مفلح کی شہادت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زعترہ چوکی کی طرف جانے والی مرکزی سڑک پر ربڑ کے ٹائروں کو آگ لگا دی۔

حوارہ میں  شہید مفلح کی شہادت کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ مفلح کو اسرائیلی قابض فوجیوں نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری جرائم کے سلسلے کے دوران گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔

آدھی رات سے مزاحمتی کارکنوں نے نابلس اور جینین میں فوجی مقامات اور قابض صیہونی ریاست کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی پانچ کارروائیاں کیں۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطینی مزاحمتی گروہ عرین الاسود نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس کے قصبے سلوان میں شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے آنسو گیس کے شیل فائر کرنے سے  متعدد فلسطینی نوجوان دم گھٹنے سے بے ہوش ہوگئے۔

صفا خبررساں ایجنسی نے القدس کے شہری خالد ابو تایہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے سلوان قصبے میں ابو تایہ محلے پر دھاوا بول دیا اور نوجوانوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور صوتی بم برسائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابو تایہ محلے میں اسرائیلی قابض فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور نوجوانوں نے جوابی پتھراؤ کیا اور ان میں سے متعدد کا دم گھٹ گیا۔

اسرائیلی فوج نے مسجد الاقصیٰ کے جنوب میں واقع قصبے سلوان سے انخلاء سے قبل فلسطین کے جھنڈے اور محلے سے فلسطینی تنظیموں کے جھنڈے ہٹا دیے۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button