فلسطینوں کی آواز دبانے کیلئے اسرائیل اور گوگل کا معاہدہ، گوگل کی ملازمہ احتجاجاً مستعفی

02 ستمبر, 2022 09:42

شیعیت نیوز: گوگل سرچ انجن اور اسرائیلی فورسز کے مابین فلسطینیوں کی آواز دبانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور نگراںی سے متعلق ایک ارب ڈالر کے معاہدے کے بعد گوگل سرچ انجن کی ملازمہ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گوگل سرچ انجن کی مارکیٹنگ مینجر ائیریل کورین رواں ہفتے کمپنی کو خیر باد کہہ دیں گی اور اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ ایک ارب ڈالر کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سرویلنس معاہدے پر آواز اٹھائی تو گوگل انتظامیہ نے مجھے خاموش کرنے کے لیے میری ذمہ داریاں ہی بدل ڈالی۔

تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ائیریل کورین نے پراجیکٹ نمبس نامی ایک پروگرام پر ایمیزون اور اسرائیلی فوج کے ساتھ گوگل کے 1.2 بلین ڈالر کے تعاون پر احتجاج کیا۔

انہوں نے گوگل کو معاہدے سے دستبردار ہونے کے لیے اپنے احتجاج کو منظم کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت گزارا اور آن لائن پٹیشنز، ایگزیکٹوز سے بات چیت اور نیوز آرگنائزیشنز سے بھی بات کی۔

کورین نے کہا کہ ان کے خدشات کو سننے کے بجائے گوگل نے نومبر 2021 میں ایک الٹی میٹم کے ساتھ مجھے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو سے برازیل کے شہر ساؤ پالو منتقل ہونے پر دباؤ ڈالا۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونیوں کے ساتھ سرحدی تنازع میں جیت حزب اللہ کی ہوگی، عبدالباری عطوان

دوسری جانب مقامی رہائشی فلسطینیوں کو یروشلم میں گھروں کی مسماری کے نوٹس موصول ہوگئے نوٹس بھی ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیلی پولیس نے جمعرات کے روز فلسطینی شہریوں کے گھر گرانے کےلیے دوسرا نوٹس مل گیا ہے۔

یہ نوٹس بظاہر اسرائیلی میونسپلٹی نے کیے ہیں اور مقصد یروشلم  اسرائیلی میونسپلٹی نے جاری کیے ہیں اور ان کا سب سے اہم مطلب یروشلم میں فلسطینیوں کے مکانات کو گرانا ہے۔

ابو دیاب سلوان کے رہنے والے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس افسر نے مسماری کا ایک  نوٹس دیا ہے۔ اس دوسرے نوٹس  کے صبح سویرے ملنے پہلے ہی ایک اسی نوعیت کا نوٹس پہلے ہی مل چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور اوچھا کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران  اسرائیلی  فوج نے مغربی کنارے اور یروشلم میں  300  سے زائد گھر مسمار کر دیے ہیں۔

مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں   کو اپنی مرضی سے کچھ بھی بنانے کی اجازت نہیں۔ انہیں اس کے لیے اسرائیلی قابض اتھارٹی سے لائسنس لینا پڑتا ہے۔  جبکہ اسرائیل قابض اتھارٹی نے فلسطینی شہریوں کے لیے نقشے کا حصول اس قدر مشکل بنا رکھا ہے کہ لائسنس حاصل نہیں کر پاتا ۔

 

9:47 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top