ہم سے یوکرین نہیں، نیٹو لڑ رہے ہیں، سرگئی کری ینکوف

12 اگست, 2022 07:42

شیعیت نیوز: روسی صدر کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف سرگئی کری ینکوف نے نیٹو پر جنگ یوکرین میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

رشیا ٹوڈے کے مطابق، کری ینکوف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یوکرین کی جنگ یوکرین نہیں بلکہ نیٹو لڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدر نے نیٹو کی نیابت میں روس کے خلاف لڑنے کے لئے اپنے عوا م کو بیچ ڈالا ہے۔

سرگئی کری ینکوف نے کہا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک، یوکرینی فوج کو استعمال کرتے ہوئے، روس کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔

اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک تمام تر فوجی سازوسامان یوکرین کو فراہم کرے گا لیکن روس کے ساتھ براہ راست لڑائی میں نہیں الجھے گا۔

روسی حملے کے آغاز سے اب امریکہ اور یورپی ممالک تقریبا ساٹھ ارب ڈالر کی فوجی امداد یوکرین کو فراہم کر چکے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کے لئے، مغرب کی فوجی امداد سے جنگ طول پکڑے گی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ وہ مغربی فوجی امداد کو براہ راست نشانہ بنانے کی توانائی رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسامہ بن لادن کی طرح ایمن الظواہری کی لاش بھی غائب، بایڈن کے دعوے پر سوال اٹھے

دوسری جانب روسی سنیئر مذاکرات کار نے ان مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیا جس کا مقصد ایران مخالف پابندیوں کو ہٹانا ہے۔

یہ بات میخائیل اولیانوف نے یورپی یونین کے کوآرڈینیٹر انریکہ مورا سے ملاقات کے بعد اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آج ایک بار پھر مسٹر انریکہ مورا سے ملاقات کی، ایسا لگتا ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔

ویانا میں جاری مذاکرات کا مقصد 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنا اور تہران مخالف پابندیوں کو ہٹانا ہے جو مئی 2018 میں اس معاہدے سے نکلنے کے بعد امریکہ نے بحال کر دی تھیں۔

ویانا مذاکرات جمعرات کو تین ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئے، جس میں ایک حتمی معاہدے کے لیے مغرب، خاص طور پر امریکہ کے سیاسی فیصلوں کا انتظار کیا گیا جس نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔

ایرانی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک معاہدے کے لیے پابندیوں کے پائیدار خاتمے کی ضمانت دی جاتی ہے اور یہ کہ مستقبل میں ایران کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال ہونے کے لیے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہنا چاہیے۔

9:24 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top