کابل میں خودکش حملہ، ایک طالبان رہنما رحیم اللہ حقانی ہلاک
شیعیت نیوز: افغان خبر رساں ذرائع نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک مذہبی درسگاہ میں دھماکے کے نتیجے میں طالبان گروپ کے ایک سینئر رکن رحیم اللہ حقانی کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
افغانستان کے سحر ٹی وی چینل نے رپورٹ کیا ہے کہ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک دینی درسگاہ میں دھماکے کے نتیجے میں طالبان کے رکن شیخ رحیم اللہ حقانی ہلاک ہوگئے ہیں۔
افغان کی ریڈیو نے وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنفی تکور کے حوالے سے بھی بتایا کہ کابل کے ’سکس ڈاریک‘ علاقے میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت، مقصد اور دیگر ہلاکتوں کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
دی انڈیپنڈنٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ طالبان کے متعدد ارکان نے ٹوئٹر پر دھماکے کی جگہ کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرکے حقانی کی موت کی تصدیق کی۔
BBC ٹی وی چینل نے بھی اطلاع دی ہے کہ طالبان کے ترجمانوں میں سے ایک بلال کریمی نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صیہونیت کی حمایت بند کرنے کے لیے برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے مظاہرہ
دوسری جانب دہشت گرد گروہ داعش نے کابل کے مدرسے میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کر کی۔
ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق کابل کے مدرسے میں خودکش دھماکے میں افغان طالبان کے رہنما رحیم اللہ حقانی سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق خودکش دھماکہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں واقعہ مدرسے میں ہوا جس کے نتیجے میں طالبان کے رہنما اور عالم رحیم اللہ حقانی ہلاک ہوگئے۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور پہلے کسی حملے میں اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہوا ہوگا، کیوں کہ حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد اپنی مصنوعی ٹانگ میں چھپا رکھا تھا۔
دہشت گرد گروہ داعش نے کل رات ایک بیان جاری کر کے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ شیخ رحیم حقانی کی موت اسلامک امارات افغانستان کیلئے بڑا نقصان ہے۔







