عاشورا سے قبل عزاداران حسینی سے آل سعود کی دشمنی
شیعیت نیوز: سعودی عرب کی حکومت نے عاشورا سے قبل اس ملک میں عزاداران حسینی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
جوں جوں عاشورا کا دن قریب آرہا ہے، سعودی عرب میں مقیم شیعہ برادری کے لیے حالات سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقے قطیف میں سیکیورٹی سخت کرکے عزاداری میں شرکت کرنے والے عزاداران حسینی کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ کام محرم میں حفاظتی انتظامات کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
وہاں ایک قانون لایا گیا ہے کہ ہر وہ امام بارگاہ جس میں مجلس ہو گی، اس کے مالک کو مجلس شروع ہونے سے پہلے پولیس کے پاس رجسٹر کرانا ہو گا اور وہ خود ہر قسم کے حادثے کا ذمہ دار ہو گا۔
سعودی عرب میں اس بار سڑکوں پر نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس بار کسی بھی گھر، عمارت یا عوامی مقام پر محرم سے متعلق کوئی بینر یا جھنڈا نہیں آویزاں کیا جا سکے گا۔ محرم الحرام کے حوالے سے سعودی حکومت کے نئے احکامات سے شیعہ برادری کے لوگ شدید غم و غصے میں ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کابل میں مسجد کے قریب بم دھماکے میں آٹھ حسینی عزادار شہید
دوسری جانب سعودی عرب میں مسجد النبوی کی توہین کے الزام میں چھے پاکستانیوں کو آٹھ سے دس سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا سنادی گئی ہے۔
پاکستانی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ مدینہ میں حرمت حرم کی توہین کرنے والوں کو سزا سنائی گئی ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ مدینہ منورہ کے موقع پر مسجد النبوی میں توہین کے الزام میں تین پاکستانیوں کو دس دس سال اور تین کو آٹھ آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
دس سال قید کی سزا پانے والے انس، ارشاد اور محمد سلیم ہیں جبکہ آٹھ سال کی سزا پانے والوں کے نام خواجہ لقمان، محمد افضل اور غلام محمد ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق مدینہ منورہ کی عدالت نے مذکورہ پاکستانی شہریوں پر بیس بیس ہزار ریال جرمانہ بھی عائد کیا ہے جبکہ ان کے موبائل فون بھی ضبط کرلیے گئے ہیں۔







