پولینڈ میں نازیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی اجتماعی قبریں دریافت

16 جولائی, 2022 05:38

شیعیت نیوز: پولینڈ میں نازیوں کے کنسنٹریشن کیمپ کے باہر دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں ہیں جن میں کم از کم 8 ہزار افراد کی 19 ٹن راکھ موجود ہے۔ یہ اندازہ باقیات کے وزن پر مبنی ہے جس کے حساب سے تقریباً ایک جسم کی راکھ دو کلو گرام کے برابر ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: محققین کا کہنا تھا کہ متاثرین کو قتل کر کے دفن کیا گیا لیکن بعد میں نازی پارٹی کے ممبران نے ان ہلاکتوں کو چھپانے کے لیے لاشیں کھود کر نکالیں اور جلادیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران، عراق اور شام کے مقدس مقامات کی زیارات ایمان کی ترقی کا ذریعہ ہیں، وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور

جس جگہ پر قبریں کھودی گئیں وہاں اب ایک قطبہ لگا ہے جس پر پولِش زبان میں لِکھا ہے کہ نامعلوم شہداء جو پولِش ہونے کی وجہ سے مارے گئے اور ساتھ میں سال 1939 سے 1944 لکھا ہے۔

پولِش حکام نے بدھ کے روز مقبرے کی رُونمائی کی جس کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کیے جانے والے جنگی جرائم کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

پولینڈ کے انسٹیٹیوٹ آف نیشنل ریمیمبرنس کے صدر کیرل ناوروکی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ 1939 میں تقریباً 8000 افراد کو کیمپ کے باہر لایا گیا اور سر میں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : جمہوریت کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے!مریم نواز کالعدم سپاہ صحابہ کے جھنڈےتلے کھڑی ہوگئیں

یہ اجتماعی قبریں گزشتہ ماہ دریافت ہوئی تھیں۔ ان قبروں میں ایک 91 فِٹ جبکہ دوسری 39 فِٹ لمبی ہے۔

ادارے کے ایک آفیشل ٹوماز جینکووسکی نے کانفرنس میں بتایا کہ جن لوگوں کی راکھ یہاں دفن ہے ان کو لُوٹا گیا اور قتل کیا گیاتھا۔

8:11 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top