برطانیہ میں استعفیٰ دینے والے افراد کی رقم 31 تک پہنچ گئی
شیعیت نیوز: برطانیہ میں وزیر اعظم بوریس جانسون کے نظام میں برسرکار افراد کے استعفیٰ دینے کی رقم 31 تک پہنچ گئی لہذا اگر وہ بر سر اقتدار باقی رہے تو انہیں اپنے کابینہ کو از سر نو بنانا پڑے گا۔
ارنا پورٹ کے مطابق، برطانیہ میں وزیراعظم بوریس جانسن کی کارکردگی پر احتتاج کے سلسلے میں اب تک 31 افراد نے ان کے کابینہ سے استعفی دے دیا ہے اور اب ان کے طاقت سے ہٹانے کے ماحول کی فراہمی ہوگئی ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق، بروز منگل کو مقامی وقت کے مطابق، 18:00 بجے میں بوریس جانسون کے کابینہ سے استعفیٰ دینے کا ڈومینو، وزیر خزانہ ریشی سوناک اور وزیر صحت ساجد جاوید سے آغاز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے غیر ملکی سفارت کاروں کو جاسوسی کرنے پر گرفتار کر لیا
وزیر اعظم نے بعد میں ندیم زہاوی کو وزیر خزانہ مقرر کیا۔ رشی سنک اور ساجد جاوید دونوں نے پہلے ہی بورس جانسن کی انتظامیہ کے طرز عمل اور ان کے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے دفتر اور رہائش گاہ پر پارٹیوں کے سبب ہونے والے اسکینڈل میں ان کی برملا حمایت کی تھی۔ رشی سنک نے کہا کہ میرے لیے چانسلر کا عہدہ چھوڑنا آسان نہیں تھا لیکن عوام توقع کرتے ہیں کہ حکومت قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے حکومت چلائے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری بطور وزیر آخری نوکری ہو سکتی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اس معیار کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے اور اسی لیے میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ ساجد جاوید نے کہا کہ بہت سے قانون سازوں اور عوام کا حکومت کرنے کے حوالے سے بورس جانسن پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔
ساجد جاوید نے بورس جانسن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ یہ بات بات میرے لیے واضح ہو چکی ہے کہ یہ صورتحال آپ کی قیادت میں نہیں بدلے گی اور اس لیے آپ نے میرا اعتماد بھی کھو دیا ہے۔ ان کے استعفے اس وقت سامنے آئے جب جانسن نے ٹیلی ویژن پر قانون ساز کرسٹوفر پنچر کو کنزرویٹو پارٹی میں اہم عہدے پر تعینات کرنے پر معذرت کی تھی۔
برطانوی کابینہ میں استعفیٰ دینے کی لہر کے تسلسل میں اس ملک کی لیبر پارٹی کے سربراہ کراستامر نے وزیراعظم جانسن کے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
تاہم؛ جانسون نے اب تک لیبر پارٹی کے سربراہ کیجانب سے ان کے استعفیٰ دینے اور قبل از وقت انتخابات کا انعقاد کرنے کی درخواست کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اس وقت کوئی بھی برطانیہ میں سیاستدانوں کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کو نہیں کہا ہے۔







