عربوں اور قابض اسرائیل کی قربت مسجد اقصی کے لیے خطرناک ہے، اسماعیل ہنیہ
شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اس امر کی شدید مذمت کی ہے کہ بعض عرب ممالک قابض سرائیل کے ساتھ تعلقات کے لیے تجاوز پر مبنی پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا یہ رویہ فلسطین کی تحریک آزادی کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
اسماعیل ہنیہ نے بیروت میں قومی اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آجکل علاقائی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے یہ انتہائی خطرناک ہے نیز عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان نارملائزیشن سے بہت آگے کی بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عربوں کی قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن بھی ایک جرم ہے جو اسرائیل کے لیے خدمت کی انجام دہی ہے اور فلسطین کے لیے خطرناک ہے۔ اس لیے ہم خبردار کرتے ہیں کہ یہ کوششیں صہیونی رجیم کو علاقے میں مضبوط اور مستحکم کرنے کے مترادف ہے۔
فلسطینی قائد نے زور دے کر کہا کہ علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مزاحمت کو فلسطین اور لبنان میں ٹارگٹ کرنا ہے۔ ہم فلسطینی عوام علاقے میں اپنی تزویراتی گہرائی چاہتے ہیں اور عربوں اور مسلم اقوام کو قابض ریاست کا راستہ روکنا چاہیے۔
لیکن اس کے برعکس جو کیا جا رہا ہے اس سے مسجد اقصی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی عبدللہ حماد شہید، 131 زخمی
دوسری جانب فلسطین کی تحریک مزاحمت حماس نے اسرائیلی فوجی قیدی گیلاد شالیت کو رہائی دلانے کے لیے ایک ہزار ستائیس فلسطینیوں کی رہائی کے معاہدے پر اسرائیل کے مجبور کر دینے کے دن کی یاد مناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حماس آج بھی اتنی طاقت اور صلاحیت رکھتی ہے کہ ایک بار پھر قابض اسرائیلی اتھارٹی کو اس طرح کے معاہدے پر مجبور کر سکے۔
یہ معاہدہ اسرائیلی قابض اتھارٹی کو دوہزار گیارہ میں کرنا پڑا تھا۔ جبکہ اسراائیلی فوجی گیلاد شالیت دو ہزار چھ میں 25 جون کوغزہ کی کراسنگ کے پار سے حماس کے قابو کے قابو آیا تھا۔ حماس کی طرف سے یہ بیان گیلاد د شالیت کی گرفتاری کی یاد منانے کے موقع پر دیا گیا ہے۔
گیلاد شالیت مسلسل پانچ سال حماس کی قید میں رہا تھا اور اسرائیل اسے چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ پانچ سال بعد گیلاد شالیت کو اسرائیل نے حماس کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت 1027 فلسطینیوں کی رہائی قبول کی تو اس کے بعد حماس نے اسے رہائی دی تھی۔
اس موقع پر حماس نے فلسطینی شہدا کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ہیروآنہ آنداز میں اپنی جانیں فلسطین کی آزادی کے لیے قربان کر دیں اور جنہوں نے 2006 کے آپریشن کی پلاننگ کی تھی۔
حماس کی طرف سے اس موقع پر قابض اسرائیلی اتھارٹی کو خبردار کیا ہے کہ وہ جیلوں میں بند فلسطینیوں کے ساتھ مظالم سے باز رہے۔ ان مظالم سے فلسطینی عوام کے حوصلوں کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔







