صہیونی رجیم کی جارحیت کے پیچھے تین ممکنہ منظرنامے، ایران پر دباؤ کی دوغلی حکمت عملی

10 جون, 2026 19:06

شیعیت نیوز : صہیونی رجیم نے لبنان کے بیروت اور ضاحیہ سمیت ایران کے بعض شہروں پر حالیہ جارحانہ حملے کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں کے پیچھے تین ممکنہ منظرنامے سامنے آئے ہیں۔ مرکزی سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور صہیونی رجیم کے درمیان واقعی شگاف ہے یا دونوں ایک ہی حکمت عملی کے تحت ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں؟

پہلا منظرنامہ یہ بتاتا ہے کہ صہیونی رجیم جان بوجھ کر ایران-امریکہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ حملے کر رہا ہے۔ وہ کسی ایسے معاہدے سے خوفزدہ ہے جو ایران پر دباؤ کم کر دے۔

دوسرا منظرنامہ زیادہ حقیقت پسندانہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ اور صہیونی رجیم کے درمیان غیر تحریری کرداروں کی تقسیم ہے۔ امریکہ دباؤ کا استعمال بہتر ڈیل حاصل کرنے کے لیے کرنا چاہتا ہے جبکہ صہیونی رجیم اسی دباؤ کو مذاکرات مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ دونوں کا حتمی ہدف ایک ہی ہے — ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ — البتہ طریقے مختلف ہیں۔

تیسرا منظرنامہ یہ کہتا ہے کہ صہیونی رجیم ایران کے سرخ خطوط کا امتحان لینا چاہتا تھا کہ کیا ایران مذاکرات کے حساس مرحلے میں بھی لبنان کی سلامتی کی خاطر فوجی جواب دے گا یا خاموش رہے گا۔ ایران کے جوابی میزائل حملوں نے واضح پیغام دے دیا کہ وہ اپنے سرخ خطوط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی دوغلی پالیسی: ہرمز میں فوری الزام، میناب میں 102 دن کی تاخیر

نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خطہ فی الحال "پرتناؤ کے التوا” کی حالت میں ہے۔ نہ تو مکمل جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی مذاکرات کا مکمل خاتمہ۔ دونوں فریق وسیع پیمانے پر جنگ سے گریز کر رہے ہیں، مگر فوجی طاقت کو سفارتی فائدے کے لیے استعمال کرتے جا رہے ہیں۔ ایران نے ہمیشہ کی طرح حق دفاع کا استعمال کرتے ہوئے صہیونی رجیم کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

8:51 شام جون 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔