مقبوضہ فلسطین

آئندہ جمعہ اہل فلسطین بڑی تعداد میں مسجد اقصی حاضری دیں، القدس اتھارٹی

شیعیت نیوز: مسماری و نقل مکانی کے خلاف کام کرنے والی القدس اتھارٹی نے مسلمان نمازیوں سے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں بڑی تعداد میں موجودگی کو ’’آبادکاروں کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔

القدس اتھارٹی کے سربراہ ناصر الہدمی نے کہا کہ مسلمان نمازیوں کو مسجد اقصیٰ تک اجتماعی مارچ کرنے کی ترغیب عرب قوم اور فلسطینی عوام کے جذبۂ ایمانی کی عکاسی ہے۔

الہدمی نے ہفتہ بھر مسجد اقصیٰ میں کثرت سے آنے اور یہودی آباد کاروں کو اس کی بے حرمتی سے روکنے پر زور دیا۔

القدس اتھارٹی کے سربراہ نے مسجد اقصیٰ میں آبادکاروں کی توڑ پھوڑ کو روکنے کے لیے مربوط و مستحکم حکمت عملی اپنانے نیز عرب ممالک سے الاقصی کے تحفظ و دفاع میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی درخواست کی۔

یہ بھی پڑھیں : یہودی آباد کاروں کے کیسان گاؤں میں فلسطینیوں پرحملے، مکانات کی تعمیر روکنے کے نوٹس

دوسری جانب خبری ذرائع کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے مختلف علاقوں میں صیہونی فوجیوں نے جارحیت کرتے ہوئے 20 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ انتہا پسند صیہونی فوج کی مدد و حمایت سے جنوبی نابلس کے دیہی علاقوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

فلسطینی شہداء کے خاندانوں کی قومی تنظیم کی سالانہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ برس تین سو ستاون فلسطینی صیہونی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق انیس فیصد فلسطینی شہداء میں خواتین ہیں جس کی انیس سو اڑتالیس میں فلسطین پر قبضے کے بعد سے اب تک کوئی مثال نہیں ملتی۔

دریں اثنا ’’پارلیمینٹیرینز فار القدس‘‘ لیگ کے ایک وفد نے استنبول میں بین الپارلیمانی یونین کے صدر ڈوراٹی پاچیکو سے یونین میں لیگ کی رکنیت کی فائل پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد میں ایسوسی ایشن کے صدر الشیخ حامد بن عبداللہ الاحمر، ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد مکرم بلعاوی اور ایسوسی ایشن کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ عبداللہ البلتاجی شامل تھے۔

اجلاس کے دوران سپیکر پارلیمنٹ کو ایسوسی ایشن کی جانب سے فیڈریشن میں مبصر رکن کی رکنیت کی درخواست سے متعلق تمام معلومات فراہم کی گئیں کیونکہ اس کا فیصلہ روانڈا میں ہونے والے فیڈریشن کے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔

ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے 144ویں بین الپارلیمانی یونین کے اجلاس کے کام میں حصہ لیا، جو انڈونیشیا کے شہر بالی میں ایک سرکاری دعوت پر منعقد ہوا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button