یہودی آباد کاروں کے کیسان گاؤں میں فلسطینیوں پرحملے، مکانات کی تعمیر روکنے کے نوٹس
شیعیت نیوز: یہودی آباد کاروں نے جنوبی مغربی کنارے میں بیت لحم کے مشرق میں واقع کیسان گاؤں میں فلسطینی چرواہوں پر حملہ کیا۔
کیسان ویلج کونسل کے ایک رکن احمد غزال نے بتایا کہ آباد کاروں نے شہریوں پر حملہ کیا اور ان پر پتھر پھینکے۔ یہودی آباد کاروں نے یہ حملہ اس وقت کیا جب فلسطینی شہری ’’ابی ہناہیل‘‘ یہودی کالونی کے قریب اپنی زمینوں پر بھیڑیں چرا رہے تھے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جن شہریوں پر حملہ کیا گیا وہ ہیں ان میں سماہر غزال، حلیمہ عبیات، خلف حسن عبیات اور صالح احمد عبیات شامل ہیں۔ یہودی آباد کاروں نے نے شہریوں کی بھیڑیں چرانے کی کوشش کی، جو ان کا واحد ذریعہ معاش ہے۔
انہوں نے کیسان گاؤں میں کسانوں اور چرواہوں پر آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کی طرف اشارہ کیا جس کا مقصد رہائشیوں کو محدود کرنا اور انہیں بستی کی توسیع کےلیے اراضی چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔
آباد کاروں نے کیسان گاؤں میں شہریوں کے گھروں کے قریب واقع ایک آبادکاری کی سہولت کو بڑھانے کے لیے شہریوں کے دو پلاٹ قبضے میں لے لیے۔
یہ بھی پڑھیں : یہودی آباد کاروں کےچاقو حملے میں فلسطینی شہری علی حسن حرب شہید
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل کے جنوب میں واقع گاؤں الدیرات میں تین مکانات پر کام بند کرنے کی اطلاع دی۔
جنوبی الخلیل مقامی فلسطینی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر فواد العامور نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے یطا کے مشرق میں الدیرات گاؤں میں واقع تین زیر تعمیر مکانات پر کام روکنے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مکانات ایھاب ابو عرام، رضی جبارین اور محمد تیسیر العدرہ کی ملکیت ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی قابض فوج نے رام اللہ کے مغرب میں واقع نعلین قصبے میں زیر تعمیر فلسطینی شہری کا مکان مسمار کردیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی بلڈوزروں نے فوج کی گاڑیوں کے ساتھ قصبے پر دھاوا بولا، اور قیدی برکات الخواجا کے گھر کو گھیرے میں لے لیا۔
بلڈوزروں نے بعد میں مبینہ طور پر اجازت کے بغیر تعمیر کیے جانے کا الزام لگا کر مکان منہدم کردیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’’اوتشا‘‘ کے مطابق 2022 کے آغاز سے اب تک 300 سے زائد فلسطینی تنصیبات کو مسمار کیا گیا ہے۔







