ترک صدر طیب اردوغان دہشت گردوں کو شمالی شام میں بسانا چاہتے ہیں، فیصل مقداد
شیعیت نیوز: شام کے وزیرخارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ترک صدر طیب اردوغان دہشت گردوں کو شمالی شام میں بسانا چاہتے ہیں۔
المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیرخارجہ فیصل المقداد نے روس شام کوارڈی نیٹر وفود کے مشترکہ اجلاس میں اقوام متحدہ سے وابستہ فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ترک صدر طیب اردوغان کی طمع اور شام میں دہشت گردوں کو اس علاقے میں بسانے کے پروگرام کی مذمت کرتے ہیں جسے وہ امن زون کہتے ہیں۔
ترک صدر طیب اردوغان نے مئی کے مہینے میں شامی سرحدوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد کا اعادہ کرتے ہوئےاعلان کیا کہ انقرہ، شام سے ملحق اپنی سرحدوں پر تیس کلومیٹر وسیع سیکورٹی بیلٹ کو مکمل کرے گا ۔
ترکی کی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بہانے تقریبا ڈھائی سال پہلے شمالی و شمال مشرقی شام کے بعض علاقوں پر قبضہ کرکے ترک فوج کو تعینات کیا جو اب بھی وہاں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بحرین کی عوام کا سیاسی قیدیوں کی حمایت میں مظاہرے
دوسری جانب آج دوپہر شام کے سرکاری میڈیا ذرائع نے امریکی فوجیوں کے ہاتھوں چوری ہوتے ہوئے دسیوں کینٹینرز کی تصویریں جاری کر دی ہیں۔
شام کے سرکاری میڈیا نے اس حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی افواج نے ملک کے شمال مشرق میں 40 ٹرکوں سے گندم چوری کر لی ہے۔
نجی میڈیا نے ان تصاویر کو جاری کرتے ہوئے عنوان میں لکھا کہ سانا کے کیمرے نے ریاستہائے متحدہ کی طرف سے الجزیرہ کے علاقے میں گندم کے 40 بڑے ٹرکوں کی چوری کو ریکارڈ کر لیا ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق، امریکی فوج نے ان ٹرالوں کو چوری کرنے کے بعد عراق کے شمال میں موجود اپنے فوجی اڈے پر منتقل کر دیا ہے۔
شام کے مقامی ذرائع نے بارہا رپورٹ دی ہے کہ ملک کے مشرق میں موجود امریکی افواج شام کا تیل اور غذائی اجناس پڑوسی ممالک کو اسمگل کر رہی ہیں۔
شام کی پٹرولیم مصنوعات کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی قابض افواج اور اس کے ایجنٹ مشرقی علاقوں میں روزانہ 70,000 بیرل شامی تیل چوری کرتے ہیں۔
شام کے خلاف ایک دہائی کی جنگ کے دوران، امریکہ نے دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ کے بہانے ملک میں علیحدگی پسند فورسز کی حمایت کی ہے اور شام کے تیل سے مالا مال علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ اپنے بیانات میں واضح کرچکے ہیں کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی تیل کے کنوؤں کی وجہ سے ہے۔







