ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بھارتی حکومت سے مسلمانوں پر ظلم و ستم بند کرنے کا مطالبہ
شیعیت نیوز: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور ظلم و ستم بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں بھارتی مسلمانوں پرتشدد کی مذمت کرتے ہوئے مودی سرکار سے مسلمانوں پرتشدد بند کرنے اورکریک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مزید کہنا تھا کہ امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانے والے مسلمانوں پر بھارتی حکومت کریک ڈاؤن کررہی ہے۔ بلاجواز گرفتاریاں اور گھروں کی مسماری انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے مظاہرین کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی مطالبہ کیا۔
بھارت کے مختلف شہروں میں اسلامی مقدسات کی توہین کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اترپردیش کے شہر الہٰ باد میں ویلفیئر پارٹی کے رہنما محمد جاوید کوگرفتار اور ان کا گھربھی مسمار کردیا گیا جبکہ مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والی آفرین فاطمہ کا گھر بھی گرا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آل سعود و یہود کے مضبوط ہوتے رشتے، اسرائیلی طیارہ ریاض کے ہوائی اڈے پر اترا
ذرائع کے مطابق 6 سابق معروف ججزز نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے گھر مہندم کرنا حکومت کا غیر قانونی عمل ہے۔
بھارتی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کو 6 سابق ججز اور 6 سینیئر وکلا نے ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ریاست کی طرف سے محمد جاوید کا گھر مسمار کرنے کی مذمت کی ہے۔
سابق ججز ور وکلا نے عدالت عظمیٰ پر زور دیا ہے کہ اتر پردیش میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کا نوٹس لے کر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ پولیس اور دیگر حکام نے جس طرح گھر مسمار کیا ہے اس سے یہ واضح ہے کہ گھروں کی مسماری اجتماعی ماورائے عدالت سزا کی ایک شکل ہے جو ریاستی پالیسی سے منسوب ہے اور غیر قانونی عمل ہے۔
پیغمر اسلام حضرت محمد (ص) کے بارے میں توہین آمیز بیان کے خلاف بھارت کے مشرقی شہر کولکتہ میں دوسرے ہفتے بھی ہزاروں مسلمانوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
بھارتی حکومت اور اس کے اتحادی ہندو شرپسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔







