ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی محاصرے غزہ انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا

15 جون, 2022 20:40

شیعیت نیوز: انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی  تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قابض اتھارٹی غزہ کے علاقے میں فلسطینی عوام کی معاشی تباہی کی براہ راست ذمہ دار ہے۔ یہ رپورٹ غزہ کے اسرائیلی محاصرے کے پندرہ سال مکمل ہونے پر جاری کی گئی ہے۔

حماس کے ترجمان  حازم قاسم  کی طرف سے جاری کردہ بیان اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے  بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ  سے اپیل کی گئی ہے کہ غزہ کے  اسرائیلی محاصرے کے خلاف آپ کی یہ  ذمہ داری ہے کہ اس  محاصرے کو ختم کرائیں۔  جو اس نے غزہ کے رہاشی عوام کو ظلم  کا نشانہ بنانے اور ان کے روز مرہ  کے کام کاج  سمت ہر طرح کی معاشی سرگرمی کو روکنے کے لیے  کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : داعش کے خلاف عراقی سیکورٹی فورسز کا وسیع آپریشن کامیاب، 10سرغنہ ہلاک

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے اسرائیلی محاصرے کا مطلب ہے کہ بیس لاکھ انسانوں کو زندگی ضرورتوں اور سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے اور غزہ کے رہنے والے اپنی بہتر زندگی کے لیے ممکنہ مواقع سے دور ہو گئے ہیں ایچ آر ڈبلیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آج اسرائیل کی طرف سے غزہ کے محاصرے کو پورے پندرہ سال مکمل ہو گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رہورٹ  میں قرار دیا گیا ہے کہ مسلسل محاصرے کی وجہ سے غزہ کی معیشت تباہ  ہو گئی ہے۔ محاصرے نے فلسطینی عوام کو تقسیم کرنے اور ایک دوسرے سے کاٹ دینے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ ۔یہ انسانیت کے خلاف جرائم   کے ذمرے میں آتا ہے۔ اور یہ لاکھوں فلسطینیوں پر ظلم ہے۔

اسرائیل کے اس غیر انسانی محاصرے کی وجہ سے  ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ غزہ کے رہنےو الے مغربی کنارے تک نہیں جا سکتے اور مزدروں، طلبہ، پروفیشنلز، فنکاروں سمیت  ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کے لیے مقامی طور پر مواقع ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ نتیجتا انہیں اسرائیل کے راستے بیرون ملک  جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

4:16 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔