طلبا پر تشدد کی ذمہ دار النجاح یونیورسٹی کی انتظامیہ ہے، حماس

15 جون, 2022 16:34

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک ’حماس‘ نے کہا ہے کہ النجاح یونیورسٹی کے سیکیورٹی عملے کی طرف سے طلباء کے پُرامن احتجاج کے دوران طلبا اور طالبات پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

حماس نے یونیورسٹی کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں طلباء پر تشدد کو مجرمانہ حملہ اور ناقابل قبول ہے اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطینی مجاہدین اور قابض صیہونیوں کے درمیان مسلح جھڑپ

حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ النجاح یونیورسٹی کے سیکیورٹی عملے کی اس غنڈہ گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اوراس کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

النجاح یونیورسٹی کے سیکیورٹی عملے نے پرامن طلباء کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے قانون ہاتھ میں لینے کی مذموم کوشش کی ہے۔

ایک پریس بیان میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے زور دیا کہ اشتعال انگیزی کرنے والوں اور طلباء پر حملہ کرنے کے جرم میں ملوث افراد کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی عملے کا نہتے طلباء پر تشدد ہماری اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : باہمی معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مشترکہ تعاون کمیشن کو فعال رہنا چاہیے، رہبر معظم

حماس نے قومی اور اسلامی دھڑوں اور عوام کی جاندار قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ النجاح یونیورسٹی اور تمام تعلیمی سہولیات کو طلبا کی آزادی کے حقوق کا پابند بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس علمی عمارت کی حفاظت میں اپنی ذمہ داری قبول کریں اور طلباء کا تحفظ یقینی بنائیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز النجاح نیشنل یونیورسٹی میں سیکیورٹی عملے نے پرامن احتجاج کرنے والے طلباء پر اندھا دھند لاٹھی چارج کیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد طلباء زخمی ہوگئے تھے۔

1:03 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top