برطانیہ کے 3000 فوجی یوکرائن میں روس کے خلاف لڑ رہے ہیں، کمانڈر مامولاشویلی

14 جون, 2022 13:42

شیعیت نیوز: یوکرائن میں موجود جارجیائی کرائے کے فوجیوں کے کمانڈر مامولاشویلی نے اعلان کیا کہ یوکرائن میں تقریباً 3000 برطانوی فوجی روس کے خلاف لڑنے والے کرائے کے فوجیوں میں شامل ہیں۔

یوکرائن میں جارجیائی کرائے کے فوجیوں کے کمانڈر مامولاشویلی نے مزید کہا کہ یوکرائن میں تقریباً 20,000 غیر ملکی کرائے کے فوجی ، روس کے خۂاف لڑ رہے ہیں، جن میں برطانیہ کے 3000 فوجی بھی شامل ہیں۔

یوکرائن میں جارجیائی کرائے کے فوجیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جارجیائی کرائے کے فوجی یوکرائن کی فوج کے زیرکمان ایک فوجی یونٹ میں کام کررہے ہیں۔

جارجیائی کرائے کے فوجیوں کے بعد برطانوی فوج کی تعداد دوسرے نمبر پر ہے جبکہ امریکی فوجیوں کی تعداد تیسرے نمبر پر ہے۔

امریکہ اور یورپی ممالک بڑی مقدار میں یوکرائن کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود یوکرائن جنگ میںر وس کا پلڑا بھاری ہے۔

روس کا کنہا ہے کہ اس نے یوکرائن میں مغربی ممالک کے ہتھیاروں کی بڑی مقدار کو تباہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روس یوکرین جنگ کے دوران جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات میں اضافہ

دوسری جانب یوکرینی فوج نے روسی فوج سے شدید جھڑپوں کے بعد پیر کے روز شہر سیورو دونیسک کے مرکزی علاقے سے پسپائی کا اعتراف کر لیا۔

فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی فوج نے پیر کے روز اپنے فیس بک پیج پر اعلان کیا ہے کہ اس نے روسی فوج سے شدید جھڑپوں کے بعد پیر کے روز شہر سیورو دونیسک کے مرکزی علاقے سے پسپائی اختیار کی ہے۔

یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے مختلف قسم کے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے شہر سیورو دونیسک کو شدید حملے کا نشانہ بنایا اور پیش قدمی کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ صوبے لوہانسک میں واقع اس شہر کے بارے میں یوکرینی فوج نے پسپائی کی یہ خبر ایسی حالت میں دی ہے کہ کچھ دنوں قبل، روسی فوج نے اس شہر سے یوکرینی فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کا دعوی کیا تھا۔

روسی صدر نے مغرب کی جانب سے روس کی سیکورٹی تشویش کو نظرانداز کئے جانے پر اکیس فروری کو دونیسک اور لوہانسک کی آزادی کو تسلیم کیا اور پھر تین دن بعد یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ واضح رہے کہ یوکرین کی جنگ اپنے چوتھے مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔

3:38 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔