یمن

یمن میں ماحولیاتی تباہی کا بہت بڑا حادثہ ، اقوام متحدہ نے کیا خبردار

شیعیت نیوز: اقوام متحدہ کے عہدیدار نے یمن میں ماحولیاتی تباہی کا بہت بڑا حادثہ ہونے کی بابت خبردار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ حدیدہ بندرگاہ سے قریب 60 کیلومیٹر شمال میں سمندر میں لنگر انداز تیل ٹینکر کسی بھی وقت ماحولیات سے جڑے بڑے حادثہ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل ٹینکر کے پھٹنے سے سمندر میں پھیلے تیل کو صاف کرنے میں 20 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔

یمن میں انسانی معاملوں کے یو ان کوآرڈینیٹر ڈیوڈ گریسلی نے اردن کے دارالحکومت امان میں کہا کہ یمن کے ریڈ سی میں ایک ٹائم بم لگا ہوا ہے۔ ان کا اشارہ ریڈ سی میں لنگر انداز سافر آئل ٹینکر کی طرف تھا۔ یہ فلوٹنگ اسٹورج اینڈ آفلوڈنگ آئل ٹینکر اف اس او کہلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تکنیکی ماہرین کے ساتھ ہم نے اف اس او سافر کا تازہ معائنہ کیا جس سے اندازہ ہوا کہ یہ ٹینکر بہت جلد پھٹ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی فوج کے ہاتھوں 25 یمنیوں پر شدید تشدد اور 7 افراد کی شہادت

اف اس او سافر تیل ٹینکر سنہ 1976 میں بنا تھا اور یمن کے مغربی ساحلی شہر حدیدہ سے 60 کیلومیٹر شمال میں سمندر میں سنہ 1988 سے لنگر انداز ہے۔

اس جہاز میں قریب 11 لاکھ بیرل تیل ہے۔ اس تیل ٹینکر میں یمن پر سنہ 2015 میں سعودی جارحیت کے آغاز سے پہلے تیل ذخیرہ ہوتا تھا۔ اس وقت سے یہ جہاز بنا کسی سروس کے لنگر انداز ہے۔

اف اس او، اکزان والڈز سے چار گنا بڑا جہاز ہے جو سنہ 1989 میں الاسکا کے قریب امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی میں سے ایک کا سبب بنا تھا۔

گرسلی نے کہا تیل کے پھیلنے کا بہت برا اثر ماحولیات پر پڑے گا اور تیل کی صفائی میں کم سے کم 20 ارب ڈالر کا خرچ آئے گا۔

سعودی جارحیت کے خلاف ڈٹی تحریک انصاراللہ نے کسی بھی ممکنہ تباہی کے لئے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

انصار اللہ کے ترجمان محمد عبد السلام کا کہنا ہے کہ ہم سافر ٹینکر کی مرمت کی اپیل پر اپیل کر رہے ہیں، لیکن امریکی حمایت یافتہ جارح فورسز نے عمدا ایسی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے جس سے مرمت کا کام نہیں ہو پا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close