بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کا دمشق میں مسیحیوں کی عبادت گاہ سیدۃ صیدنایا کا دورہ
شیعیت نیوز: شام کے صدر اور ان کی اہلیہ نے دمشق کے مضافات میں آج عیسائیوں کی عبادت گاہ سیدۃ صیدنایا کا دورہ کیا۔
فارس نیوز کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق، شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ اسماء الاسد نے آج دمشق کے مضافات میں عیسائیوں کی قدیم ترین بستی میں سیدۃ صیدنایا خانقاہ کا دورہ کیا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (SANA) کے مطابق، بشار الاسد اور ان کی اہلیہ نے مسیحی خاندانوں، راہباؤں اور یتیم بچوں کو ان کی عید کی مبارکباد دی۔
رپورٹ کے مطابق شامی صدر اور اسماء الاسد نے ’’آیا صوفیہ‘‘چرچ کے میوزیم کا بھی دورہ کیا اور وہاں موجود تاریخی خطوط اور فن پاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
یاد ہے کہ سیدۃ صیدنایا گرجا شام میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ آف انطاکیہ کی ایک یادگار عبادت گاہ ہے، جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے قدیم ترین کلیساوں میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد بازنطینی شہنشاہ ’’جسٹنین اول‘‘ نے 547 عیسوی میں رکھی تھی اور جو راہباؤں کے مذہبی حکم سے چلتی ہے۔ یہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے لیے اہم زیارتی مقام بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شام: دارالحکومت دمشق کے اطراف اسرائیلی حملوں میں متعدد افراد ہلاک
دوسری جانب ایک حکم نامے کے ذریعے شامی صدر نے ’’علی محمود عباس‘‘ کو ملک کا وزیر دفاع منصوب کر دیا۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد نے آج جمعرات کو جنرل علی محمود عباس کو ملک کا نیا وزیر دفاع منتخب کر لیا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق، "علی محمود عباس” "علی عبداللہ ایوب” کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں جن کے عہدے کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ عبداللہ ایوب جنوری 2018 سے اس عہدے پر تھے۔
میجر جنرل "علی محمود عباس” اس سے قبل فوج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ تھے۔ لاذقیہ صوبے کے گاؤں تل صارم میں پیدا ہوئے، وہ 2011 میں بحران شروع ہونے کے بعد سے شام کے پانچویں وزیر دفاع ہیں۔
وہ اب تک مختلف صوبوں میں دہشت گردوں کے خلاف اہم کارروائیوں کی کمانڈ کر چکے ہیں۔







