دنیا کو جوہری جنگ کے خطرے کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے، سرگئی لاوروف
شیعیت نیوز: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو جوہری جنگ کے خطرے کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مصنوعی طورپر خطرہ کھڑا کرنے کی بات نہیں بلکہ جوہری جنگ کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ ہمیں اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
روسی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ہم اس خطرے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔نیٹو اپنے پراکسی کے ذریعے روس سے جنگ میں مصروف ہے اوراپنے پراکسی کو ہتھیار بھی فراہم کررہا ہے۔
جنگ کا مطلب جنگ ہوتا ہے۔
روس نے اپنے سرحد پر نیٹو کی سرگرمیاں روکنے کے لئے یوکرائن کے خلاف دو ماہ قبل فوجی آپریشن شروع کیا تھا جو اب بھی جاری ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے یوکرائن کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مسجد اقصیٰ میں فلسطینی روزہ داروں پر اسرائیل کی نئی پابندیاں
دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ اس یونین کے اراکین کے درمیان روس کے انرجی کے شعبے پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے
جوزف بورل نے کہا کہ روسی تیل و گیس کی درآمدات پر تنبیہ کے طور پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے یا مکمل پابندی عائد کرنے کے لئے یورپی یونین کے تمام اراکین کی بھرپور حمایت حاصل نہیں ہے.
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تیل و گیس پر مکمل پابندی کے لئے حتمی تجویز ابھی زیرغور نہیں ہے اور روس کے انرجی کے شعبے پر پابندی کے بارے میں یورپی یونین کے آئندہ مہینے کے آخر میں ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔
جوزف بورل نے اعلان کیا کہ یورپی یونین کے تمام ممالک روسی تیل و گیس پر انحصار ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یورپی یونین آخرکار اپنا انحصار کم کرے گی۔ روزنامہ ڈی ویلٹ نےلکھا ہے کہ یورپی کمیشن اس ہفتے روس کے خلاف پابندیوں کے چھٹے پیکیج میں کچھ تجاویز دے سکتا ہے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس کے خلاف پابندیوں اور دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔







