مسجد اقصیٰ میں فلسطینی روزہ داروں پر اسرائیل کی نئی پابندیاں
شیعیت نیوز: اسرائیلی حکام نے سوموار کے روز مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لیے آنے والے فلسطینی نمازیوں اور روزہ داروں پرنئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ستائیس رمضان المبارک کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔
اسرائیلی پولیس کی طرف سے مسجد اقصیٰ کےنمازیوں اور روزہ داروں پر نئی پابندیوں میں 50 سال سے کم عمرکے فلسطینیوں پر بغیر اجازت کے قبلہ اول میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 40 سے 50 سال کی عمرکے فلسطینیوں کےلیے مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے لیے داخلے سے قبل اجازت لینا ہوگی۔ تاہم خواتین اور 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی مکمل اجازت ہے۔
13 سے 40 سال کی عمر کے فلسطینیوں کو 27 ویں شب مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس موقعے پرسخت سیکیورٹی چیک اپ کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مسجد اقصیٰ سرخ لکیر ہے، اسلامی تعاون تنظیم
دوسری جانب صیہونی فوجیوں نے ایک بار پھر غرب اردن کے شہر جنین میں فلسطینیوں پر دھاوا بولا ہے جس کے بعد صیہونی فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
وفا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی جیل سے رہا ہونے والے امجد الدامونی کی دوبارہ گرفتاری کے بعد آج پیر کو جنین کیمپ میں فلسطینی مجاہدین اور باوردی صیہونی دہشتگردوں کے درمیان شدید چھڑپیں ہوئی ہیں۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں کے بعد آخر کار فلسطینی نوجوانوں نے صیہونی غاصبوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
غرب اردن کے مختلف شہروں بالخصوص جنین میں ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی صیہونی حکومت کی جارحیتوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے اور اب تک دسیوں فلسطینی شہری صیہونی فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔







