اسرائیلی وزیر خارجہ یائرلبید کا مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی جرائم کا دفاع

25 اپریل, 2022 11:08

شیعیت نیوز: اسرائیلی وزیر خارجہ یائرلبید نے کہا ہے کہ ان کا ملک مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم نہیں کررہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اسٹیس کو بھی تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

وزیر خارجہ یائرلبید کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور مسجد اقصیٰ پر بار بار دھاوا بولا گیا۔ اس دوران یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد کو قبلہ اول میں دھاووں کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھ نکال دیں گے، ترجمان پاک فوج

وزیر خارجہ یائرلبید نے وزارت خارجہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئےکہا کہ حالیہ تین ہفتوں کے دوران بیت المقدس میں خطرناک کوششیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اسے ملک بھر میں تشدد کا مرکزبنانے کی کوشش کی گئی۔

دوسری طرف مشہور امریکی اداکار اور ہدایت کار مارک روفالو نے "اسرائیل” پر مسجد اقصیٰ میں نمازیوں اور صحافیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھیں : داعش امریکہ اور اسرائیل کی پروردہ تنظیم ہے، حسن نصر اللہ کا خصوصی خطاب

روفالو نے اپنے ٹوئٹر پیج پر ایک ٹویٹ پوسٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ روزاسرائیل نے مسجد اقصیٰ سے تقریباً 500 فلسطینیوں کو گرفتار کیا، 170 کو زخمی کرنے کے علاوہ،ان میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے اور ان میں سے کئی صحافی بھی شامل ہیں۔

پچھلے سال روفالو نے 100 مشہور شخصیات کے ساتھ مل کر ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں اسرائیل پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایک نسل پرست اور نوآبادیاتی ریاست ہےجوانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔

 

11:47 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top