خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے لیے جارحیت کا خاتمہ ضروری ہے، اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب
شیعیت نیوز : اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایروانی نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن و سلامتی کے قیام کے لیے عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ، قبضے اور جارحیت کا مکمل اختتام اور علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے کا فروغ ناگزیر ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ خطے میں مستقل استحکام کا انحصار ممالک کی خودمختاری کے احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور علاقائی ریاستوں کے باہمی تعاون پر ہے۔
سعید ایروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کو تنازعات کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینی چاہیے جن میں فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں پر مسلسل قبضہ، صہیونی رجیم کی جارحیت اور امریکہ کی طویل فوجی موجودگی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک قبضہ اور جارحیت جاری رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کی 24 گھنٹوں میں صہیونی فوج کے خلاف 24 جوابی کارروائیاں
ایرانی مندوب نے کہا کہ حالیہ واقعات، خصوصاً امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ، یہ ثابت کرتی ہے کہ خلیج فارس میں غیر ملکی فوجی موجودگی دیرپا سلامتی نہیں لا سکتی۔ پائیدار امن صرف علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے، تعاون اور اعتماد سازی سے ممکن ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اور صہیونی رجیم نے 8 اپریل کی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی ہے۔ ایران اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حق دفاع کا استعمال کرتا رہے گا اور مستقبل میں بھی کسی بھی جارحیت کے جواب میں اپنی خودمختاری اور سلامتی کا دفاع کرے گا۔
سعید ایروانی نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کی زبان ترک کریں۔ ایران دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کرتا اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کا خیر مقدم کرتا ہے۔







