حشد الشعبی کا عراق کے تین صوبوں میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن کا آغاز
شیعیت نیوز: حشد الشعبی آپریشنز کمانڈ نے منگل کو کہا ہے کہ کہ عراق کے تین صوبوں بشمول الانبار ، نینوا اور صلاح الدین میں دہشت گردوں کا تعاقب کرنے اور ان صوبوں سے داعش کی جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیلئے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
حشد الشعبی کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق، نینوا، صلاح الدین اور الانبار کے صوبوں میں آپریشنز کمانڈ نے مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے تعاون سے عراقی وزارت دفاع اور داخلہ کے یونٹوں کی شرکت اور عراقی فضائیہ کے تعاون سے تینوں صوبوں کو دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیئے اور ان کے باقی ماندہ ٹھکانوں کی تباہی کا ایک بڑا سیکیورٹی آپریشن شروع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنگ کا آٹھواں سال حیرتوں سے بھرا سال ہے، مہدی مشاط
یہ کارروائی تین عراقی صوبائی محوروں پر کی جا رہی ہے جس کا مرکز الجزیرہ الثرثار کے علاقے میں ہے؛ داعش کے دہشت گردانہ حملوں کے انتظام کے لیے اہم پناہ گاہوں اور مراکز میں سے ایک، ان تین صوبوں کے درمیان واقع ہے جہاں چند دنوں پہلے، 11 عراقی شہریوں کے اغوا اور 4 چرواہوں کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون اور داعش کو تاوان ادا نہ کرنے کے الزام میں سر قلم کیے جانے کا مشاہدہ کیا گیا۔
عراقی فوج کی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس آپریشن میں بڑے پیمانے پر حصہ لے گی اور الحضر کے جنوبی علاقوں میں، فرات کے شمال میں صحرائے الجزیرہ اور مغرب میں واقع وادی الثرثار کےعلاقوں کا فضائیہ اور فوج کے ہیلی کاپٹر کی حمایت سے احاطہ کرے گی۔
حشد الشعبی کے کمانڈروں کے مطابق، یہ آپریشن دہشت گرد گروہ پر فتح کے اعلان کے بعد داعش کے باقی ماندہ سیلوں کو تباہ کرنے کے لیے سب سے بڑے حفاظتی اقدامات میں سے ایک ہے۔ ایک اہم آپریشن جس کے ذریعے عراق اور شام کی سرحد کو عراقی سکیورٹی کے کنٹرول میں لے آئے گا۔







