اجتماعی سزائے موت پانے والوں کے لواحقین کو تعزیتی جلسوں کی اجازت نہیں، سعودی حکام

15 مارچ, 2022 07:10

شیعیت نیوز: سعودی حکام حال ہی میں اجتماعی سزائے موت پانے والوں کے اہل خانہ اور لواحقین کو ان کا سوگ منانے کی بھی اجازت نہیں دے رہے۔

جزیرۃ العرب نامی تنظیم کے ایک اعلی عہدیدار حمزہ الشاخوری نے سعودی حکومت کے ہاتھوں اکیاسی افراد کو ایک دن میں سزائے موت دیئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل سعود حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے اور اجتماعی سزائے موت کے بارے میں اس کے بیانات پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

الشاخوری نے کہا کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے احکامات من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے تحت سنائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آل سعود دورِ جاہلیت کے اصولوں پر کاربند ہے، آیت اللہ حسین نوری ہمدانی

دوسری جانب حکومت یمن نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جن اکیاسی لوگوں کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں دو یمنی جنگی قیدی بھی شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہفتے کو سعودی وزارت داخلہ نے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے 81 قیدیوں کو ایک دن میں موت کی سزا دی، ان میں 41 شیعہ جوان تھے جو قطیف کے رہنے والے تھے۔ یہ مختلف بے بنیاد بہانوں کے تحت گرفتارکو لئے جانے کے بعد عرصہ دراز سے قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ بعض ایسے بھی افراد تھے جنکی عمر گرفتاری کے وقت اٹھارہ سال سے کم رہی ہے۔

سعودی حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو تمام تر بے رحمی سے کچلنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور حتیٰ اُس نے اس سلسلے میں تمام بین الاقوامی ضابطوں اور انسانی حقوق کے شناختہ شدہ اصولوں کو تمام تر ڈھٹائی کے ساتھ بالائے طاق رکھ دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آل سعود کو چونکہ امریکی اور مغربی حمایت حاصل ہے،اس لئے وہ بلا جھجک ہر غیر انسانی کام کر گزرتی ہے۔

10:34 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top