امریکہ یوکرین کو دہشت گردی کا گڑھ بنانا چاہتا ہے، شامی رکن پارلیمنٹ مہند الحاج
شیعیت نیوز: شام کے رکن پارلیمنٹ مہند الحاج نے مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے دمشق اور ماسکو کے خلاف جاری میڈیا جنگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس میڈیا جنگ کا شام کو ماضی میں سامنا رہا ہے، آج وہی جنگ روس کے خلاف شروع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کی فوجی کاروائی ماضی میں سوویت یونین اور سیزر کے دور میں جنگ سے بہت مختلف ہے اور اس فرق کی وجہ میڈیا ذرائع ہیں جن کے باعث روس آج کیمرے کے سامنے جنگ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس یوکرین میں اپنی فوجی کاروائی کے دوران عام شہریوں کی حفاظت کا بہت خیال رکھ رہا ہے اور اسی وجہ سے دارالحکومت کیف میں روسی فوجیوں کے داخلے میں بہت زیادہ تاخیر پیش آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شام پر پھر صیہونی فوج کا حملہ، شامی فوج کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیا۔
شام کے رکن پارلیمنٹ مہند الحاج نے یوکرینی حکام کی جانب سے نیٹو کو مشتعل کر کے روس کے ساتھ جنگ پر اکسانے کا حربہ بروئے کار لانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو درپش صورتحال کا مقابلہ نہ کر سکا اور اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اپنے وعدوں کا پابند نہیں ہے۔
انہوں نے بی بی سی اور العربیہ جیسے چینلز کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی ذرائع ابلاغ ہیں جنہوں نے پہلے شام کے خلاف میڈیا جنگ شروع کر رکھی تھی اور اب روس کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ چینلز ظالم اور مظلوم کی جگہ تبدیل کرنے میں ماہر ہیں۔
مہند الحاج نے کہا کہ نیٹو کی پوزیشن اس وقت بہت کمزور ہے لہذا اسی کمزوری کے پیش نظر امریکہ نے پراکسی وار کا راستہ اختیار کیا ہے اور یوکرین میں بڑی تعداد میں دہشت گرد عناصر بھیج رہا ہے۔







