شام کے صوبہ حمص میں فوجی بس پر حملہ، متعدد جاں بحق اور زخمی
شیعیت نیوز: شام کے صوبہ حمص کے صحرائی علاقے تدمر میں فوجیوں کو لے جا رہی بس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 13 فوجی جاں بحق اور 18 دیگر زخمی ہوگئے۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے فوجیوں کی ایک بس کو اتوار کی شام صوبہ حمص کے صحرائے تدمر میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق یہ دہشت گردانہ حملہ مشرقی تیل کے تیسرے پمپنگ اسٹیشن پر ہوا جس میں 13 فوجی جاں بحق اور 18 ديگر زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے فوجیوں میں کچھ فوجی افسران بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مشرقی صوبہ حماۃ سے لے کر صوبہ حمص کے صحرائی علاقوں نیز تدمر کا علاقہ، داعش کے دہشت گردوں کی سرگرمی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور شام کی فوج نے ان علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب کرنے کے لئے متعدد بار سرچ آپریشنز انجام دیئے ہیں۔
اسی تناظر میں گزشتہ 17 فروری کو شام کی اسپیشل آرمی تدمر میں داخل ہوئی اور اس نے صوبہ حمص کے صحرائی علاقوں کی پاکسازی کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کی جازان سرحد پر صنعا فورسز کی نئی فتوحات
دوسری جانب مختلف قسم کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس امریکی دہشت گرد فوجیوں کا ایک قافلہ شام سے عراق میں داخل ہوا ہے۔
سانا کی رپورٹ کے مطابق، فوجی ٹرکوں، ٹینکوں اور توپوں سمیت مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس امریکی دہشت گرد فوجیوں کا ایک قافلہ جو 42 گاڑیوں پر مشتمل ہے، اتوار کے روز شام کی غیر قانونی گذر گاہ الولید سے عراق کے شمالی علاقے میں داخل ہوا ہے۔
اس سے قبل عراق کے عسکری امور کے تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ عراق اور شام کی سرحد میں قائم التنف اور الحسکہ اڈوں میں امریکی فوجیوں کی موجودگی در اصل ایک دہشتگردانہ منصوبے کا حصہ ہے اور وہ ان علاقوں سے شام اور عراق کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
غاصب امریکی فوج کا دعوی ہے کہ وہ عالمی اتحاد کے دائرے میں دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہے جبکہ وہ، کرد ڈیموکریٹک فورس کے ساتھ تعاون کر کے تیل کی لوٹ مار کرنے کی غرض سے شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضہ کر رہی ہے اور اسی غرض سے گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگی ساز و سامان سے لدے ہزاروں امریکی فوجی ٹرک، شام کے تیل سے مالامال علاقوں میں پہنچائے گئے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی غیر قانونی فوجی موجودگی، ایسی حالت میں جاری ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کے آغاز میں ہی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ امریکہ ہی شام میں مختلف دہشت گرد گروہ منجملہ داعش کے قیام کا باعث بنا ہے۔
شام کے صدر بشار اسد نے امریکی حکومت کو جرمن نازی حکومت کی مانند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، شام کا تیل چوری کر رہا ہے۔







