صیہونی دشمن کے ساتھ سازباز وہم و گمان سے زیادہ کچھ نہیں، اسلامک جہاد
شیعیت نیوز: اسلامک جہاد فلسطین کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے تمام فلسطینی مزاحمتی گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قدس شریف اور مسجد اقصی کے دفاع کیلئے ہمیشہ پوری طرح تیار اور آمادہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کا قتل اور ان کے گھروں کو مسمار کرنے جیسے ظالمانہ اقدامات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ ہم صہیونی دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک لمحہ بھی دیر نہیں کریں گے۔
انہوں نے یہ باتیں ’’مزاحمت آزادی کا راستہ ہے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں تقریر کے دوران کہیں۔ اسلامک جہاد کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دشمن کو کمزور کرنا آج کی اہم ضرورت ہے لہذا مغربی کنارے میں فلسطینی مجاہدین کی جہادی کاروائیاں حقیقی معنی میں اسلامی مزاحمت کا مصداق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مسجدالاقصیٰ کے لئے اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار ہیں ، فلسطینی استقامتی تحریک حماس
اسلامک جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے صہیونی دشمن کے خلاف فلسطینی عوام کے منظم ہو جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ایک اسلامی اور قومی ذمہ داری ہے اور حقیقی ضرورت بھی ہے جبکہ دشمن کے خلاف جنگ کا تقاضہ بھی ہے۔ عوام کو یوں منظم کرنے کیلئے فلسطین کے تمام سیاسی اور سماجی گروہوں میں اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔
زیاد النخالہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ فلسطینی قوم کے سامنے واحد راستہ مزاحمت اور اس کا تسلسل ہے، کہا کہ صہیونی دشمن کے ساتھ سازباز کا وہم و گمان ترک کر دینا چاہئے اور قومی اتحاد کے منصوبے پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ قومی منصوبہ فلسطینیوں کے تاریخی حقوق کے حصول کا ضامن ہے۔ زیاد النخالہ نے کہا کہ آج اسلامی مزاحمت فلسطین اور خطے میں ہر وقت سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے۔
اسلامک جہاد کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ دشمن مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے لیکن وہ ہر وقت سے زیادہ کمزور ہے۔ اس بارے میں بہت سے شواہد پائے جاتے ہیں۔







