یورپ اور نیٹو نے یوکرین پر کوئی ٹھوس مؤقف اختیار نہیں کیا، رجب طیب اردوان

26 فروری, 2022 10:35

شیعیت نیوز: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کل (جمعہ کو) ڈینباس میں روس کے خصوصی فوجی آپریشن کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو نیٹو اور یورپی یونین کی امداد نہ ملنے پر تنقید کی۔

طیب اردوان نے استنبول میں نماز جمعہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین یا مغرب کی جانب سے یوکرین کی جانب سے کوئی ٹھوس موقف نہیں لیا گیا ہے۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق، انہوں نے کہا کہ نیٹو کو روس کے حملے کا زیادہ فیصلہ کن جواب دینا چاہیے، اور صرف مذمت کافی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانے دونوں ہی کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

طیب اردوان نے کہا کہ مغرب آج تک یوکرین کے بارے میں مشورے دے رہا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ مغربی ممالک صرف یوکرین کی حمایت کی بات کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔

یہ جمعرات کی صبح تھا جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقے کے رہنماؤں کی طرف سے فوجی مدد کی درخواست کے جواب میں ڈینباس کے علاقے میں خصوصی آپریشن کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد روسی فوجی لڑاکا طیاروں، توپ خانے اور میزائل سسٹم نے یوکرین کے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ دشمنوں کو شکست دینے کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ سکتی ہے، اعلیٰ عہدیدار

دوسری جانب ترکی کے صدر کے محتاط اور قدامت پسندانہ ریمارکس نے ظاہر کیا کہ روس اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں انقرہ کے لیے توازن برقرار رکھنے کی پالیسی بہت ضروری ہے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور نیٹو کے اس معاملے پر حساسیت کے بعد ترکی کے صدر نے تین افریقی ممالک کا دورہ منسوخ کر دیا اور واپس انقرہ چلے آئے۔

طیب اردوان نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک آن لائن کانفرنس میں یوکرائن پر تبصرہ کرنے والے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اردگان کے محتاط اور قدامت پسندانہ ریمارکس نے ظاہر کیا کہ روس اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں انقرہ کے لیے توازن برقرار رکھنے کی پالیسی بہت ضروری ہے طیب اردوان کے لیے روس کو بارودی سرنگ قرار دینا کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے،کیونکہ طیب اردوان کی ٹیم کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ مفادات کے تحفظ کی کوشش کرے اور ساتھ ہی ماسکو کے فیصلوں کو چیلنج کرے۔

10:01 شام اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔