روس کے صدر ولادیمیر پوتن یوکرین سے مذاکرات کے لئے وفد بھیجنے کو تیار

26 فروری, 2022 07:09

شیعیت نیوز: روس کے صدر ولادیمیر پوتن یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ایک وفد بھیجنے کو تیار ہیں۔

یوکرین کے خلاف روسی آپریشن شروع کرنے کے ایک روز بعد یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے رہنما سے مذاکرت کی اپیل کی اور کہا ہے کہ وہ یوکرین کی ’غیر جانبداری‘ پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ روسی ایوان صدر کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے صدر زیلینسکی کی تجویز پر غور کیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا،’ولودیمیر پوتن زیلنسکی کی پیشکش کے جواب میں منسک میں ایک روسی وفد منسک بھیجنے کے لیے تیار ہیں‘۔

انٹرفیکس نے ان کے حوالے سے بتایا کہ وفد میں وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور صدارتی انتظامیہ کے حکام شامل ہوں گے۔

اُدھر چین کی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ پوتین نے چین کے صدر شی جن پنگ سے فون پر بات چیت میں کہا کہ روس، یوکرین کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اکیس فروری کو دونیتسک اور لوہانسک کو آزاد جمہوریہ کے طور پر تسلیم کیا تھا اور دونوں جمہوریہ کی طرف سے فوجی امداد کی درخواست کے بعد اس ہفتے یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : روسی فوجی کارروائی میں کسی نے مداخلت کی تو نتیجہ انتہائی سنگین ہوگا، صدر ولادی میر

دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرائنی فوج ہتھیار ڈال دے تو روس مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرائن کے عسکری کردار کو ختم کرنے کے لیے خصوصی فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر پوتین یوکرائن کو جبر اور نازی اثرات سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یوکرائن کے شہری اپنا مستقبل آزادانہ طور پر خود طے کر سکتے ہیں۔

ادھر کریملن کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی کریں گے۔ روسی صدر آج متعدد بین الاقوامی ٹیلی فون کالز بھی کریں گے۔

9:01 صبح اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔