روسی فوجی کارروائی میں کسی نے مداخلت کی تو نتیجہ انتہائی سنگین ہوگا، صدر ولادی میر

26 فروری, 2022 07:00

شیعیت نیوز: روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی کارروائی کا اعلان کر دیا۔ امریکی خبر ایجنسی کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ٹیلی ویژن سے خطاب میں کہا کہ روس کو یوکرین کی جانب سے لاحق خطرات کے باعث یوکرین میں فوجی کارروائی کی جائے گی۔

روسی صدر نے مزید کہا کہ روس یوکرین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا، کارروائی میں ہونے والے خون خرابے کی ذمہ داری یوکرین پر عائد ہوگی۔ یوکرین کے علاقے دونباس میں خصوصی فوجی آپریشن کیا جائیگا۔ شہریوں کو محفوظ علاقوں میں جانے کی اجازت ہوگی۔

صدر پیوٹن نے خبردار کیا کہ کسی نے روس کی فوجی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے نتائج اتنے سنگین ہوں گے، جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھے ہوں گے۔

روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کے اس مطالبے کو نظرانداز کیا کہ وہ یوکرین کو نیٹو کا حصہ بننے سے روکیں اور اس سلسلے میں ماسکو کو سکیورٹی گارنٹی دی جائے۔

صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین میں فوجی آپریشن کا مقصد یوکرین کو ڈی ملٹرائز کرنا ہے۔ یوکرین کے جو فوجی ہتھیار ڈال دیں گے، انہیں محفوظ علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں : ہمیں خود کو ایٹمی ہتھیاروں سےغیر مسلح نہیں کرنا چاہیے تھا!، بورڈ یلیاک

دوسری طرف روس نے اپنے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی مذمتی قرارداد ویٹوکردی۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی جسے روس نے ویٹوکردیا۔

سلامتی کونسل کے15 ممبران میں سے 11 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ روس نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد امریکہ کی مدد سے ڈرافٹ کی گئی تھی۔ روس کے قرارداد ویٹوکرنے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیرلنڈا تھامس کا کہنا تھا کہ روس قرارداد ویٹوکرسکتا ہے لیکن ہماری آواز نہیں دبا سکتا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 193 ارکان پرمشتمل ہے۔

 

7:32 صبح اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔