شیعہ تنظیمات نےمتنازعہ یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کردیا

05 فروری, 2022 13:59

شیعیت نیوز: نیا سرکاری یکساں نصابِ تعلیم آئین کے متصادم اور قائد اعظم کے اصولوں کے بر خلاف ہے، یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے اگر مکتب تشیع کے تحفظات کو فوری حل نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر زاہد مہدی نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا طلبہ امامیہ پاکستان نے آج ایک بار پھر یوم یکجہتی کشمیر بھرپور جوش و جزبہ سے منا کر یہ ثابت کردیا کہ کشمیر ہماری شہ رگ حیات ہے اور اس کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا، طلبہ کو چاہیے مظلومینِ جہاں بلخصوص کشمیری و یمنی عوام کی صدائے احتجاج کو لوگوں تک پہنچائیں اور ظالم و جابر قوتوں کا چہرا دنیا کے سامنے آشکار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر مسئلہ فلسطین سے جدا نہیں. آج دنیا پہچان گئی ہے کہ دنیا بھر میں وہ کون سی قوتیں ہیں کہ جن کے ہاتھ امت مسلمہ کے خون سے رنگین ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئےمشہدمقدس میں حرم مطہر امام رضا ؑ کے باہر مظاہرہ

انہوں نے مزید کہا کہ یمن میں سعودی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہیں، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا صادق جعفری کا کہنا تھا کہ وزارتِ تعلیم کے مطابق اسلامی اصولوں اور قائد اعظم کے نظریات کے مطابق نصاب تشکیل دینے کا عزم کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے متنازعہ نصاب مرتب کیا گیا ہے۔ ہم کسی صورت اسلامی عقائد اور ملکی نظریات و اصولوں کے برعکس تعلیمی نصاب کی حمایت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے نصابِ تعلیم مشترکہ قومی و ملی اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہونا چاہیئے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق نئے نصاب میں دینی و سماجی مضامین میں مسلکی رنگ غالب جبکہ عصری مضامین کی فلسفی بنیادیں لادینیت پر رکھی گئی ہیں، جو ملک کے آئین اور نظریہ کے برعکس ہے۔ رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ نصاب سے متنازعہ عبارات، اسباق اور ابواب نکال کر مشترکہ مواد کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ متنازعہ نصاب قومی و ملی یکجہتی کیلئے نقصان دہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان کی جانب سے سرزمین مقدس پر فحاشی کے فروغ کا نتیجہ، نیم برہنہ خاتون کی احرام کی بے حرمتی

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ نصاب میں کربلا اور اہلبیت کرام کے ابواب کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے آئین پاکستان کے عین مطابق نصاب تشکیل دینے کیلئے علمائے کرام سے کردار ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا. شیعہ علماء کونسل کراچی کے صدر علامہ کامران حیدر عابدی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں رائج تعلیمی نظام و نصاب سے نوجوان نسلوں کی غیر دینی اور غیر اخلاقی ذہن سازی کی جارہی ہے. پاکستان کی تہذیب، اسلامی معاشرہ، مشرقی فکر اور مکتب تشیع اس چیز کی بلکل اجازت نہیں دیتے اور جب بات اسلامی نصاب کو مرتب کرنے کی آئی تو ایک مکتب فکر کے نصاب کو شامل کیا گیا اور انہیں ترجیح دی گئی۔

یکساں قومی نصاب پریس کانفرنس میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر زاہد مہدی، محمد دیباج عابدی (ڈویژن صدر آئی ایس او کراچی)، مولانا صادق جعفری (سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین)، علامہ کامران عابدی (صدر شیعہ علماء کونسل کراچی) نے شرکت کی۔

3:17 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top