24 نومبر ، آج مادر وطن کے دو عظیم بہادرسپوتوں فلائنگ آفیسرز مریم مختار اور نادعلی کاظمی کا یوم شہادت ہے

24 نومبر, 2021 11:39

شیعیت نیوز: 24 نومبر کا دن پاکستان کے دو عظیم سپوتوں کا یوم شہادت ہے ۔ آج کے دن پاک فضائیہ سے تعلق رکھنےوالے دو فلائنگ آفیسرز نے اپنی قیمتیں جانیں مادر وطن پر قربان کرکے خود کو ہمیشہ کیلئے امر کرلیا تھا۔ ان دونوں شہداء میں فائٹر پائلٹ مریم مختاراورپاک فضائیہ کے شاہین فلائنگ لیفٹینٹ سید ناد علی کاظمی شامل ہیں۔

فائٹر پائلٹ مریم مختار کا شمار لڑاکا طیارے کی ان پانچ خواتین پائلٹس میں ہوتا تھا جنہیں محاذِ جنگ تک جانے کی اجازت تھی۔ آج ان کی چھٹی برسی ہے، جبکہ فلائنگ لیفٹینٹ سید ناد علی کاظمی شہید کی پہلی برسی ہے ۔

24 نومبر 2015 کی صبح مریم اپنے انسٹرکٹر ثاقب عباسی کے ساتھ معمول کی مشق پر روانہ ہوئیں۔جب وہ ضلع گجرات کی فضاؤں میں پرواز کررہے تھے تو اچانک انجن میں آگ لگ گئی اور وہ دھڑا دھڑ جلنے لگا۔

اس سنگین صورت حال میں ضروری ہوتا ہے کہ پائلٹ جہاز سے فوراً باہر چھلانگ لگادے، تبھی اس کی جان بچ سکتی ہے۔ مگر مریم شہید اور ثاقب عباسی کے ضمیر نے فوراً چھلانگ لگانا گوارا نہ کیا۔دراصل اس وقت ان کا طیارہ آبادی کے عین اوپر اڑ رہا تھا۔ اس کے پرے کھیت واقع تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج بہترین تربیت یافتہ فوج ہے اور مادروطن کے دفاع کیلئے ہر قیمت کی ادائیگی کیلئے تیار ہے، جنرل باجوہ

دونوں بہادر پائلٹوں نے فیصلہ کیا کہ چھلانگ لگانے کا فیصلہ چند لمحوں کےلیے ملتوی کردیا جائے تاکہ طیارہ آبادی کے بجائے کھیتوں کے اوپر پہنچ جائے۔وہ اپنے ہم وطنوں کو ہر قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچانا چاہتے تھے۔ مگر یہی چند قیمتی لمحے مریم کی شہادت کا سبب بن گئے۔

پاک وطن کی اس دلیر بیٹی نے جان کی قربانی دے کر دفاع پاکستان پر مامور ہر مرد و عورت کا سر فخر سے بلند کردیا۔انورمقصود کہتے ہیں، ’’میں اب بھی جب آسمانوں کی طرف نظرکرتا ہوں اور پاک فضائیہ کا طیارہ دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس میں مریم ہے۔‘‘

دوسری جانب سید ناد علی کاظمی پاکستان ائير فورس کے وہ کم عمر پائلٹ تھے جنہوں نے بطور فلائنگ لیفٹنٹ اپنی تربییت مکمل کی تھی اور اس بات سے تو ہم سب ہی واقف ہیں کہ پاکستان ائیر فورس میں کیڈٹ کے طور پر منتخب ہونے کے لیے کسی بھی نوجوان کو کتنے مشکل مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے- تربیت کے تمام مرحلے کامیابی سے طے کرنے والے ناد علی رسالپور کیڈٹ کالج میں موجود تھے-

24نومبر 2020منگل کے دن الیکٹرک سٹی کے فالٹ کے سبب بجلی کا بریک ڈاون ہو گیا تھا جس کو دور کرنے کے لیے ملٹری انجنئیرنگ سروس کا عملہ پہنچا جہاں پر ان کو یہ پتہ چـلا کہ بلاک 3 کا ٹرانسفارمر ٹرپ کر گیا ہے- جب وہ اس جگہ پہنچے تو نوجوان پائلٹ ناد علی فرش پر گرے ہوئے تھے ان کو جب رسالپور کے سی ایم ایچ ہسپتال لے جایا گیا تو وہاں موجود ڈاکٹروں نے ناد علی کی بجلی سے لگنے والے شاک کے سبب ہلاکت کی تصدیق کر دی- جہاں ان کی اس ہلاکت کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے-

یہ بھی پڑھیں: شام جاکر داعشی لشکر میں شامل ہونے والے پاکستانی تکفیری دہشت گردوں کی مکمل تفصیلات منظر عام پر آگئیں

سید ناد علی کا تعلق سیالکوٹ کے علاقے رتیاں سیداں سے تھا ان کی لاش کو سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقے روانہ کیا گیا جہاں پر اس جوان کی لاش کو دیکھ کر اہل علاقہ سخت غم زدہ تھے- پاکستانی پرچم میں لپٹی لاش اور اس کی وردی کو جب سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے والد کے حوالے کیا گیا تو غم زدہ والد کا ہاتھ بے ساختہ اپنے بیٹے کو سلامی پیش کرنے کے لیے اٹھ گیا- ان کے اس عمل کو دیکھ کر ہر کوئی اشکبار ہو گیا اور اتنی جوان موت پر سب کے دل غمزدہ ہو گئے-

2:25 صبح اپریل 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔