داتا دربار کے زائرین ، ہندو ومسیحیوں کے پیدل واک پر کوئی رکاوٹ نہیں تو امام حسینؑ کے عزاداروں کی مشی پر پابندی کیوں ــ؟؟؟
شیعیت نیوز: چہلم امام حسینؑ کے دنوں میں حضرت علی ہجویری(داتا صاحب) کا عرس جاری ہے،لاہور بھر سے عقیدت مند پیدل مشی کرتے ہوئے چادر چڑھانے اس حال میں جاتے ہیں کہ ڈھول کی تھاپ پہ بھنگڑا ڈال رہے ہوتے ہیں،یہ سلسلہ چل رہاہے،اس کا کوئی وقت مقرر ہے نا روٹ،نا لائسنس نا پولیس کو اطلاع ضروری ہے،جس کا دل چاہتا ہے وہ ایک چادر پکرتا ہے اور ڈھول والے کو ساتھ لے کے نکل پڑتا ہے،لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں کرسچین کمیونٹی کی بڑی تعداد رہتی ہے جو اپنے ایک مخصوص دن لاہور سے مریم آباد شیخو پورہ پیدل قافلوں کی صورت میں جاتے ہیں،ظاہرہے کسی کے پیدل کسی بھی مقام پرجانے پرقانون اس عمل سے روکنے کا جواز نہیں رکھتا۔
چہلم امام حسین ؑ کے مرکزی جلوسوں میں اسی ایریا کے لوگوں کی پیدل شرکت پرتکفیری ملاؤں کی شرارت میں شریک ہو کے انتظامیہ رکاوٹیں ڈالنے ،عزاداران کو دھمکانے،ایف آئی آرز کے اندراج اور فورتھ شیڈول مین ڈالنے کی دھمکیاں دے کے قانون و آئین سے ما ورا اقدام اٹھا رہی ہے،جس کا سیدھا سادھا حل یہی ہے کہ انتظامیہ کے خلاف درخواستیں دی جائیں اور بنیادی شہری آزادی پر قدغن کے خلاف آواز اٹھائی جائے، اپنے بنیادی حق سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا،نا کوئی ہمیں اس عمل سے روک سکتا ہے نا ہم رکنے والے ہیں،یہ پاکستان ہمارا ہےاور ہم پاکستان کے ٹیکس دہندہ شہری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امام حسینؑ کی یاد میں جلوس ومشی ہمارا آئینی و شہری حق ہے ہر پابندی جوتے کے نوک پر رکھتے ہیں، علامہ سبطین سبزواری
اہل سنت کو سمجھنا چاہیے کہ تکفیری ان کے جلوس بھی بند کروانے کے چکر میں ہیں،فقط اہل تشیع ہی ان کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں،لہذا تکفیریوں کو اپنے سے الگ کر لیں اور ذکر امام حسینؑ اور جشن میلاد النبی ؐ کا تحفظ مل کر یقینی بنائیں۔
پنجاب حکومت کے چند تنخواہ دار مزدوروں نے اربعین واک روکنے کے لیے ایک پیپر ایشو کر کے ناکام کوشش کی ہے کیونکہ اولاً تو پُر امن اربعین واک دنیا بھر کے دسیوں ممالک میں منعقد ہوتی ہے اور یہ واحد عالمی واک ہے جو انسانی نظم اور امن و آشتی کی آئینہ دار ہے اور دوماً درحقیقت یہ وہ سفر عشق ہے کہ جس کو روکنا طاغوت کے نمک خواروں کی بساط سے بھی باہر ہے کیونکہ جب ہم عشق حسین ع میں دیوانے ہوتے ہیں تو رکاوٹیں ہمارے سامنے رام ہو کر زمین بوس ہو جاتیں ہے لہذا بھرپور عوامی اور جوانوں کی شرکت پنجاب حکومت کی بے بسی کا جنازہ ذرا دھوم دھام سے نکالے۔







