یمن کا اسرائیلی حکومت کی مداخلت اور جاسوسی سے متعلق دستاویزی فلم نشر کرنے کا فیصلہ
شیعیت نیوز : یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا ہے کہ یمنی حکومت نے اسرائیلی حکومت کی یمن میں مداخلت اور جاسوسی سے متعلق ایک دستاویزی فلم نشر کا فیصلہ کیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں یمن میں’’ موساد کے جاسوس‘‘ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم نشر کی جائےگی۔
انھوں نے کہا کہ اس دستاویزی فلم میں یمن میں اسرائیلی مداخلت اور جاسوسی سے متعلق ٹھوس شواہد پیش کئے جائیں گے ۔ اس سے قبل امارات اور اسرائیل کے درمیان یمن میں جاسوسی سے متعلق تعاون کے بارے میں خبریں شائع ہوئی تھیں۔
عرب ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات اسرائیل کو جاسوسی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے اور متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا غداری اور خیانت تصور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی کڑی پابندیاں توڑ کر 40 ہزار فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی
دوسری طرف ایک طرف جارح سعودی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے یمن پر بمباری کا سلسلہ روک دیا ہے جبکہ دوسری طرف یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی جنگی طیارے بمباری کرتے نظر آئے۔
خبررساں ایجنسی رویٹرز کے مطابق کہ یمن کے خلاف جنگ میں مصروف سعودی اتحاد نے بمباری کا سلسلہ روک دیا ہے۔
رویٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی اتحاد نے یہ فیصلہ اس لئے لیا تاکہ بحرانِ یمن کے سیاسی راہ حل کے لئے زمین ہموار کی جا سکے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام دارالحکومت صنعا میں شدید دھماکے کی آواز سنائی دی ہے۔ اسکے علاوہ گزشتہ شب و روز کے دوران سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے الحدیدہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سو چار بار یمن پر بمباری کی ہے۔
اُدھر یمن کی نیشنل سالویشن حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحاد نے صعدہ، مآرب اور حجہ صوبوں میں چھبیس بار بمباری کی ہے۔







