ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ مکمل، مذاکرات تعطل کا شکار، ایران کو جلدی نہیں ٹرمپ کو ہے
شیعیت نیوز : ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پاکستان آئے، اہم ملاقاتیں کیں اور واپس روانہ ہو گئے۔ یہ دورہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں وہ عمان اور روس بھی جائیں گے تاکہ قابلِ اعتماد اتحادیوں سے خطے کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کر سکیں۔
تجزیہ نگار سید جواد رضوی کے مطابق اس وقت ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہے۔ امریکہ مذاکرات کے لیے بے تاب ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں، جبکہ ایران کو مذاکرات کی کوئی خاص جلدی نہیں اور وہ اپنے جائز مطالبات کی تکمیل کے بغیر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔
سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی جانب سے ایران کا سمندری محاصرہ ہے۔ ایران کا موقف بالکل واضح ہے کہ ایک طرف آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ اور دوسری طرف خود ایران کا سمندری محاصرہ، یہ دونوں کام بیک وقت نہیں ہو سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سوشل میڈیا پر امریکی بیانیے کی ترویج، ڈاکٹر صابر ابو مریم کا بے باک تجزیہ
سید جواد رضوی نے ان پاکستانی صحافیوں اور لکھاریوں پر بھی تنقید کی جو ایران پر دھوکہ دہی کا الزام لگا رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ثالثی اس کا اپنا جیو پولیٹیکل فیصلہ تھا اور ایران کے تحفظات بالکل جائز ہیں کیونکہ اسے مذاکرات کے دوران بارہا دھوکہ دیا گیا اور اس کی اعلیٰ قیادت کو شہید کیا گیا۔
تجزیہ نگار کے مطابق کچھ معاملات میں برف پگھلی ہے اور ایران کے پاس اسٹریٹجک برتری موجود ہے کیونکہ ٹرمپ کو اپنی ساکھ بچانے اور مڈٹرم الیکشن سے پہلے جوہری معاہدے کی اشد ضرورت ہے، رواں ہفتے کے آخر تک مذاکرات میں پیش رفت کا قوی امکان ہے۔







