حماس کےمیزائلوں کو روکنے والا اسرائیلی آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم کیا ہے؟؟؟
شیعیت نیوز: تصویر میں بائیں جانب نظر آنے والی روشنی فلسطینی مزاحمت کی طرف سے فائر کئے گئے راکٹ ہیں جبکہ دائیں جانب سے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم سے نکلے Tamir interceptor missile ہیں۔ تصویر سے معلوم ہوتا ہے فلسطینی مزاحمت کے ایک راکٹ کے مقابلے میں اوسطاً اسرائیل کو کم از کم دو ٹامیر میزائل چھوڑنا پڑتے ہیں۔
آئرن ڈوم 70 کلومیٹر تک کے فاصلے سے فائر ہونے والے شارٹ رینج راکٹس اور آرٹلری گولے روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ایک معمولی ڈیفنس سسٹم ہے۔ جسے ایک بلین ڈالر سے زیادہ کی لاگت سے اسرائیلی ڈیفنس ٹیکنالوجی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ اس سسٹم کی تیاری کے تمام اخراجات امریکہ نے برداشت کیے تھے اور یہ بجٹ اوباما انتظامیہ میں ہی منظور اور اسی دور میں غاصب اسرائیلی حکومت کو امریکہ کی طرف سے ادا کیا گیا تھا۔
اسرائیل نے 2011 اور 2012 کی غزہ پر جارحیت کے دوران پہلی بار آئرن ڈوم ائر ڈیفنس سسٹم کو استعمال کیا تھا۔
آئرن ڈوم کی کارکردگی کے حوالے سے جنگی سازو سامان کے ماہرین میں کئی طرح کی آراء پائی جاتی ہیں۔ غاصب اسرائیلی حکومت کے مطابق آئرن ڈوم شارٹ رینج راکٹس اور گولوں کے خلاف 75 سے 85 فیصد تک کامیاب ہے لیکن غیر جانبدار ماہرین کہتے ہیں آئرن ڈوم بمشکل 30 سے 35 فیصد کارکردگی کا حامل ہے۔
قطع نظر اس کے کہ آئرن ڈوم کی موجودہ کامیابی کا تناسب کیا ہے یہ جاننا ضروری ہے کہ آئرن ڈوم ائر ڈیفنس نظام اس وقت تک اپنی ابتدائی شکل میں ہے جو 4 کلومیٹر سے 70 کلومیٹر کے فاصلے سے فائر کئے گئے صرف شارٹ رینج راکٹس اور گولوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی اگر 4 کلومیٹر سے کم فاصلے یا 70 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے سے کوئی معمولی راکٹ یا گولہ بھی فائر کیا جائے گا تو آئرن ڈوم اسے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نیز اگر طویل رینج کے راکٹس یا جدید گائیڈڈ میزائل حتی عام میزائلوں کو کسی بھی فاصلے سے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اگر فلسطینی مزاحمت جدید میزائلوں یا راکٹس سے مسلح ہوجاتی ہے جس کا قومی امکان ہے کہ ہوچکی ہے تو آئرن ڈوم ائر ڈیفنس سسٹم موجودہ شکل میں اسرائیل کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا مگر یہ کہ اسرائیل اسے اپ گریڈ کرے جس کے اخراجات اور درکار وقت بہرحال بہت میٹر کرتا ہے۔ اسرائیل معاشی طور پر ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خود سے کئی بلین ڈالرز اس ڈیفنس سسٹم کو اپ گریڈ کرنے پر خرچ کرے مگر یہ کہ دوبارہ امریکہ اس مد میں اسرائیل کی مدد کرے اور امریکی معیشت کے بارے باخبر احباب جانتے ہیں کہ خود خاصے دباؤ کا شکار ہے جس کی ایک وجہ امریکی معیشت کو درپیش چینی معیشت کا چیلنج ہے۔
آئرن ڈوم کے حوالے سے دوسری اہم بات یہ کہ آئرن ڈوم سے لانچ ہونے والے ایک ٹامیر میزائل کی لاگت 10 ہزار ڈالر سے 15 ہزار ڈالر تک ہے جبکہ فلسطینی مزاحمت جو راکٹ فائر کررہی ہے وہ بمشکل 1000 ڈالر سے 1500 ڈالر تک لاگت کا ہے۔ اگر مزاحمت کے ہر ایک راکٹ کو روکنے کے لیے غاصب اسرائیل کو دو ٹامیر میزائل چھوڑنے پڑیں تو یعنی 1000 ڈالر کے بدلے میں غاصب اسرائیل کے کم از کم 20000 ڈالر خرچ ہوں گے۔ لہذا اسرائیلی جارحیت جتنا زیادہ جاری رہے گی اور فلسطینی مزاحمت اس کا جواب دے گی اتنا ہی زیادہ اسرائیل پر معاشی دباؤ بڑھتا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ غرب اردن میں یہودی عبادت گاہ میں حادثہ، ڈیڑھ سو سے زائد صیہونی ہلاک و زخمی
آئرن ڈوم کے حوالے سے ماہرین کی یہ رائے بھی ہے کہ اس کی بیٹریز ایک مخصوص کیپسیٹی سے زیادہ مزاحمت کی صلاحیت نہیں رکھتی یا حتی بعض اوقات اس کے آٹو فعال ہوجانے کیوجہ سے آئرن ڈوم سے لانچ شدہ میزائل خود سے ٹکرانے لگتے ہیں۔
آئرن ڈوم میزائلوں کے ذخیرے کے بارے بھی ہمیشہ شک و تردید رہا ہے کہ بالاخر غاصب اسرائیل کے پاس ان میزائلوں کا کتنا ذخیرہ ہے اور وہ بھی اس وقت کہ جب اسے ایک فلسطینی راکٹ کے مقابلے میں دو یا تین ٹامیر میزائل چھوڑنے پڑتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ 2014 کی جارحیت میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی درخواستوں کی ایک وجہ آئرن ڈوم کے میزائل ذخیرے کا ختم ہوجانا تھا۔
ہمارا خیال ہے غاصب اسرائیل جنگی یا دفاعی اعتبار سے اتنا مضبوط نہیں رہا البتہ اس کا پروپیگنڈا بہت طاقتور ہے جس کے ذریعے وہ ایک افسانوی فوجی طاقت نظر آتا ہے۔
تحریرـ: ابنِ حسن







