عراق

امریکی سفارت خانہ اپنی سائبر آرمی کے ذریعے مزاحمتی محاذ کو بدنام کرنا چاہتا ہے

شیعیت نیوز: عراقی رکن پارلیمنٹ و الفتح پارلیمانی اتحاد کے نمائندے عدی الشعلان نے تاکید کی ہے کہ دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارت خانہ اپنی سائبر آرمی کے ذریعے عراق کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا کر ملکی مزاحمتی محاذ و حشد الشعبی کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔

عرب ای مجلے المعلومہ کے ساتھ گفتگو میں عدی الشعلان نے کہا ہے کہ بغداد میں واقع امریکی سفارت خانہ ملک میں امریکی فوجی موجودگی کی مخالف قومی فورسز کے خلاف شدید حملات کو براہ راست کمانڈ کر رہا ہے۔

عدی الشعلان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قبیلوں کے آپسی اختلافات کو بھڑکانے اور حشد الشعبی کو بدنام کرنے کی خاطر اپنی سائبر آرمی کی تعیناتی کے ذریعے ملکی اندرونی معاملات میں امریکی سفارت خانے کی مداخلت اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کیا ساٹھ فیصد قابض فوجی عراق سے نکل چکے ہیں؟

عراقی پارلیمنٹیرین نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں واقع امریکی سفارت خانے میں سی رام دفاعی سسٹم (Counter Rocket, Artillery, and Mortar-CRAM) کی تنصیب سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ اس سفارت خانے کی جانب سے ملکی اندرونی معاملات میں مسلسل دخل اندازی کو فی الفور روکا جانا چاہئے۔

واضح رہے کہ بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کی جانب سے گنجان آباد گرین ایریا میں تاحال کئی مرتبہ ہوائی دفاعی میزائل سسٹم کی آزمائش کی جا چکی ہے جس پر مختلف عراقی سیاسی و سفارتی حلقوں کی جانب سے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دے کر ان پر وقتا فوقتا شدید تنقید بھی کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ بغداد کے گرین زون میں واقع 170 مربع کلومیٹر پر محیط امریکی سفارت خانہ رقبے و اہلکاروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے بڑا سفارت خانہ ہے جبکہ ذرائع کے مطابق اس سفارت خانے میں نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کی جاسوسی پر مبنی متعدد شعبے دن رات کام میں مصروف رہتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button