سعودی عرب نے پاکستان سمیت 20 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی

شیعیت نیوز: کورونا وائرس کی نئی لہر کی وجہ سے سعودی عرب نے پاکستان سمیت 20 ممالک پر سفری پابندیاں لگا دیں ہیں۔ اطلاق آج رات نو بجے سے غیرمعینہ مدت کے لیے ہو گا۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سفارتی اہلکار، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ان کے اہل خانہ عارضی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ جن ممالک پر سفری پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں پاکستان، بھارت، متحدہ عرب امارات، امریکہ، فرانس، جرمنی اور جاپان بھی شامل ہیں۔ کینیڈا، ساؤتھ افریقہ، مصر، لبنان، ارجنٹینا، برازیل، انڈانیشیا، آئرلینڈ، اٹلی، پرتگال، سویڈن اور ترکی بھی شامل ہیں۔ پابندی کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی ہے۔
پاکستانی ائیرلائن پی آئی اے نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے کورونا کے پھیلاؤ کا بہانہ بنا کر ایک بار پھر پاکستانی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عراق: صوبہ دیالہ میں حشد الشعبی کے 5 جوانوں کی شہادت کے بعد ہائی الرٹ جاری
جب سے کورونا وبا شروع ہوئی اس وقت سے اب تک سعودی عرب اور عرب امارات نے سینکڑوں پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا ہے۔
مسافروں کی آسانی کیلئے قومی ایئرلائن پی آئی اے نے پابندی کے اطلاق سے پہلے سعودی عرب آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پابندی ختم ہوتے ہی تمام بکنگ کو پہلی پروازوں پر بحال کردیا جائے گا۔ مسافر مزید معلومات یا بکنگ کی تبدیلی کیلئے پی آئی اے سے رابطے میں رہیں۔
متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد سعودی عرب نے گزشتہ سال دسمبر میں بھی بین الاقوامی پروازوں پابندی لگائی تھی جو 3 جنوری 2020 کو اٹھا لی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا ایک ہفتے میں تیسرا ڈرون تباہ، دو فلسطینی شہید
دوسری جانب سعودی عرب میں 3 لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد کورونا میں مبتلا ہوئے جن میں سے 6 ہزار 400 افراد ہلاک ہوئےہیں ۔
گزشتہ روز 2 فروری کو ، سعودی میں کورونا وائرس کے 310 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ سعودی عرب میں کورونا کیسز کی کل تعداد3 لاکھ68 ہزار639 ہے۔ سعودی عرب میں 6 ہزار 383 افراد کورونا وائرس سے ہلاک اور3 لاکھ 60 ہزار 110 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ مکہ میں 88 ہزار 804 کیسز اور 2 ہزار 402 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ریاض میں 75ہزار 777 اور مدینہ میں 29 ہزار934 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب میں کورونا ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ فائزر کمپنی کی تیار کردہ ویکسین استعمال کی جا رہی ہے اور ویکسین لگانے کا عمل تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔