اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قیام مسلم امہ میں انتشار پھیلانے کی سازش ہے، اسماعیل ھنیہ

29 دسمبر, 2020 14:05

شیعیت نیوز :اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ حکومتوں کے تعلقات استوار کرنےسے صیہونی ریاست کو تحفظ ملے گا اور اس کے نتیجے میں خطے میں نقل مکانی اور ہجرت کی ایک نئی لہر اٹھ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی عرب اقوام اور عالم اسلام کے درمیان پھوٹ پیدا کرنے کا موجب بنے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے خطے میں صیہونی ریاست کے توسیعی پروگرام کو آگے بڑھانے اور مستقبل کے حوالے سے اس کے گھناؤنے عزائم کو مکمل کرنے کا موقع ملے گا۔

الجزیرہ ٹی وی چینل کے زیراہتمام ایک ورچوئل پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ھنیہ نے کہا کہ امریکی پالیسی کے نتیجے میں خطے میں دوستوں اور دشمنوں کی ایک نئی صف بندی تیار ہو رہی ہے۔ امریکہ اپنے ویژن کے مطابق خطے کو تقسیم کرنا اور خطے کی اقوام کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتا ہے۔ امریکہ نے اپنے بعض اتحادیوں کو اس نام نہاد ویژن کو آگے بڑھانے کے لیے دباؤ کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنے پرمجبور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 29 دسمبر 2013،شہدائے وحدت کراچی کے قتل کو7 برس بیت گئے، قاتل تاحال آزاد

انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔ کسی بھی عرب ملک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانا ایک خطرناک تزویراتی سیاسی غلطی ہوگی۔ حماس اپنے اصولی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ہماری دشمنی اور لڑائی کسی عرب ملک کے خلاف نہیں۔ ہم صرف عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔

حماس رہنما نے کہا کہ ہمیں امریکی انتظامیہ اور ان کے فیصلوں‌کی کوئی پرواہ نہیں مگر ہمیں سیاسی فیصلوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں قضیہ فلسطین کے لیے مفید بھی ہو سکتی ہیں۔

اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ امریکی حکومت کی طرف سے خطے کی قوتوں میں پھوٹ ڈالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خطے میں امریکہ اور اسرائیل مل کر ایک ایسا اتحاد تشکیل دے رہے ہیں جو مشرق وسطیٰ‌ میں اسرائیل کو عسکری، دفاعی اور اقتصادی طور پرایک مضبوط ریاست بنا دے گا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کو اسرائیل کی شکل میں‌کئی چیلنج درپیش ہیں۔ یہودی آباد کاری کا تسلسل، فلسطینی علاقوں کو صیہونی ریاست میں ضم کرنا، سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں آباد فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جانا، غزہ کی مسلسل معاشی ناکہ بندی، حق واپسی کو ختم کرنے کی کوشش اور عرب ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر فلسطینی قوم کے حقوق غصب کرنا جیسے سنگین چیلنج درپیش ہیں۔

اسماعیل ھنیہ نے تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو، فلسطینی قوم میں یکجہتی اور حقیقی معنوں‌میں قومی سیاسی شراکت کی ضرورت پر زور دیا۔

3:58 شام مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔