دنیا

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ایک اور المناک پہلو اجاگر ہوا، ترکی

شیعت نیوز: ترکی کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد مٹانے کا مشن دو رکنی سعودی ٹیم نے انجام دیا تھا۔

آل سعود کے مخالف معروف سعودی صحافی خاشقجی کے قتل کے تعلق سے ترکی کے حکام نے باضابطہ طور پر کہا ہے جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد مٹانے میں ریاض حکومت پوری طرح ملوث ہے۔

ترکی کے حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جمال خاشقجی قتل کے شواہد مٹانے کے لیے ماہرین کی دورکنی ٹیم بھیجی گئی تھی۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم دو افراد پر مشتمل تھی جن میں ایک کیمسٹ اور دوسرا ٹوکسی کولوجسٹ یعنی زہریلی چیزوں کا ماہر شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں : نیتن یاہو اور بن سلمان ملاقات کے بعد قبیلہ آل سعود دو حصوں میں تقسیم

جمال خاشقجی کے قتل کے المناک واقعے پر ساری دنیا میں آل سعود کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا تھا، تاہم سعودی حکام نے امریکہ کی حمایت اور پیٹروڈالر کی بنا پر حاصل شدہ اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے اس معاملے کو دبانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل سعودی دارالحکومت ریاض کی کریمنل عدالت نے صحافی خاشقجی کے قتل میں ملوث 8 ملزمان کو قید کی سزا سنائی تھی۔

آٹھوں ملزمان کو مجموعی طور پر 124 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھی جن میں پانچ ملزمان کو 20، 20 سال قید، جبکہ تین ملزمان کو 7 سے 10 سال تک کی قید کی سزائیں سنائی گئی۔ سزائیں سنائے جانے اور لواحقین کی دستبرداری کے بعد مقدمہ خارج کر دیا گیا تھا۔

جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 8 ملزمان کو قید کی سزائیں ایسے وقت میں سنائی گئیں کہ جب انسانی حقوق کے اکثر عالمی حلقے سعودی ولی عہد بن سلمان اور ان کے دو قریبی دوستوں سعود القحطانی اور احمد عسیری کو جمال خاشقجی کے قتل کا اصل ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے ان پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا اور حتی وہ ایک بار بھی عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔

اس سے قبل بن سلمان نے امریکی ٹیلی ویژن چینل بی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عناصر کے توسط سے جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : عرب حکمرانوں کی اسرائیل دوستی عرب اقوام کے اصولوں کو تاراج کررہی ہے، زیاد النخالہ

متعدد عالمی تنظیموں نے بارہا صحافی خاشقجی قتل کیس کی آزادانہ تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا، تاہم قتل کے اصل ملزم آل سعود نے اسے مسترد کرتے ہوئے خود ہی ایک عدالت سجا کر ملزموں کے خلاف نمائشی کارروائی شروع کی۔

یاد رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کے اندر نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، مقدمے میں نامزد تمام ملزمان سعودی شہری ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button