تاجکستان کی جیلیں داعش کے حملوں کی زد میں

24 مئی, 2019 22:50

شیعت نیوز: گذشتہ 6 ماہ کے دوران تاجکستان کی جیلوں میں دوسری بار خونی ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔ کل رات ہونے والی ہنگامہ آرائی میں داعشی عناصر نے جیل انتظامیہ کے متعدد افراد کو قتل اور جیل کے چند حصوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ داعشی عناصر نے حالیہ ھنگامہ آرائی کے دوران متعدد قیدیوں کو بھی قتل کیا ہے.19 مئی 2018تاجیکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ رات وحدت ڈسٹرکٹ میں واقع کریچنی نامی جیل میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔

حالیہ ہنگامہ آرائی کہ جس میں داعش کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں کیوجہ سے تاجیکستان کے دارلخلافہ دوشنبے اور قریبی شہروں میں سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے. وحدت ڈسٹرکٹ تاجیکستان کے دارالخلافہ دوشنبے کے مشرقی علاقے پر مشتمل ہے. کہا جا رہا ہے کہ اس جیل میں سیاسی قیدیوں کے علاوہ داعش سے وابستہ بعض دہشتگردوں کو بھی قید رکھا گیا تھا.ریڈیو آزادی کے مطابق ہنگامہ أرائی کا آغاز کرنے والے قیدیوں کا تعلق حزب التحریر نامی گروہ سے ہے۔

تاجیکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی خاور کے مطابق ہنگامہ آرائی میں داعش کے دہشت گرد ملوث ہیں. نیوز ایجنسی خاور کے مطابق تاجیکستان کی وزارت داخلہ کی خصوصی فوج کے سابق کمانڈر گلمراد حلیم اف کا بیٹا بہروز گلمراداف کہ جس نے امریکہ میں تربیت حاصل کی اور حال ہی میں داعش میں شامل ہوا اور بعض درائع کے مطابق شام میں مارا گیا تھا اس ہنگامہ آرائی کا سرغنہ ہے. فخرالدین گول اف, محمداللہ شریف اف اور روح اللہ حسن اف حالیہ ہنگامی آرائی کے دیگر سرکردہ لوگ اور گلمراداف کے ساتھی ہیں۔

مذکورہ گروہ نے سب سے پہلے تین جیل اہلکاروں کو اغوا اور قتل کیا جس کے نتیجے میں یہ لوگ 8 قیدیوں کو چھڑوانے میں کامیاب رہے جن کے بارے کہا جارہا ہے کہ ان کا تعلق داعش سے تھا. اس کاروائی کے بعد ان افراد نے مزید 5 قیدیوں کہ جن میں قیام الدین غازی, ستار کریم اف (المعروف مخدوم ستار) اور سید مہدی خان ستار اف (المعروف شیخ تیمور) بھی شامل ہیں کا سب قیدیوں کے سامنے سرقلم اور متعدد دیگر قیدیوں کو زخمی کیا.بعدازاں مذکورہ گروہ جیل کے کلینک کو آگ لگا کر فرار ہونے کی کوشش میں تھا کہ ان کا سامنا سیکورٹی فورسز سے ہوگیا۔

بعض ذرائع کے مطابق اس وقت تک جھڑپیں جاری ہیں. اس تصادم میں ہونے والے جانی اور انسانی نقصان کے دقیق اعدادوشمار ابھی تک سامنے نہیں آئے لیکن بعض ذرائع کے مطابق کم و بیش 20 افراد زخمی ہیں. بعض ذرائع کے مطابق مخدوم ستار شہید کا سر اس وقت قلم کیا گیا کہ جب وہ خونریزی اور تصادم روکنے کی غرض سے ہنگامہ برپا کرنے والوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مصالحت کی کوشش کررہے تھے. کہا جا رہا ہے کہ ہنگامہ کرنے والوں کی کوشش تھی کہ تاجیکستان کے معروف سیاسی قیدی زید سعید اف کو بھی قتل کریں کہ جنہوں نے دیگر قیدیوں کے درمیان چھپ کرجان بچائی. کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی زخمی ہیں.قیام الدین غازی تاجیکستان کی معروف مذھبی شخصیت ہیں۔

انہوں نے 1991 کی جدوجہد آزادی و خودمختاری میں بنیادی کردار ادا کیا تھا. وہ عوام میں محبوبیت کیوجہ سے عوامی جنرل کے نام سے بھی جانے جاتے تھے.گذشتہ سال جب وہ روس کے شہر سنٹ پیٹرزبرگ کے ائرپورٹ پر پہنچے اور اپنے خانوادے سے ملنے جارہے تھے تو روسی اور تاجیک سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کرلیے اور تاجیکستان حکومت کے حوالے کردئیے گئے. تاجیک حکومت نے ان پر قومی, مذھبی اور نسلی نفرت اور دشمنی پھیلانے, حکومت کے ساتھ خیانت کرنے اور حکومت گرانے کے لیے عوام کو اکسانے کے الزامات لگائے تھے.سیکورٹی فورسز نے قیام الدین پر شدید تشدد اور ان کے گھر والوں پر دباؤ ڈال کر قیام الدین سے ایران کی مداخلت کے اقرار پر مبنی ایک بیان دلوایا۔

اس خود ساختہ جرم کی پاداش میں انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی. یہ 66 سالہ تاجیک عالم دین مذکورہ جیل میں اپنی 25 سالہ قید گزار رہا تھا کہ جس وقت داعشی عناصر کے ہاتھوں ان کا سرقلم کردیا گیا.حالیہ ہنگامہ آرائی میں شہید کیے جانے والے شہید ستار کریم اف المعروف مخدوم ستار تحریک اسلامی تاجیکستان کی اعلی قیادتی کمیٹی اور سیاسی شورای کے رکن تھے.اس حملے میں زخمی ہونے والے زید سعید اف بھی امامعلی رحمان اف کی حکومت کے سیاسی مخالفین میں سے تھے.
زید سعید اف تاجیکستان کے معاشی ماہرین میں سے تھے اور 1999 سے 2006 تک تاجیکستان کے وزیر صنعت رہ چکے ہیں. زید سعید اف نے 2013 میں جب امامعلی رحمان اف کی حاکم جماعت کے مقابلے میں سیاسی جماعت بنائی تو ان پر کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں جیل میں بند کردیا گیا. بعدازاں کرپشن کے الزامات میں انہیں 29 سال قید کی سزا سنائی گئی. قید کے دوران سعید اف پر بہت تشدید کیا گیا اور چند ایک بین الاقوامی ادارے بھی ان کی رہائی کی کوشش کرتے رہے۔

وحدت ڈسٹرکٹ کی مذکورہ جیل پر حملے سے تقریبا 6 ماہ پہلے خنجد نامی جیل پر بھی حملہ کیا گیا تھا. تاجیک حکومت کے مطابق خنجد جیل حملے میں بھی داعش ملوث تھی. خنجد جیل حملے میں 50 کے قریب لوگ جان بحق جبکہ دسیوں زخمی ہویے تھے. اسی طرح 2018 میں داعش سے وابستہ دہشت گرد گروہ نے تاجیکستان کے جنوب میں بھی ایک حملہ کیا تھا جس میں 4 غیر ملکی سیاح جان بحق ہویے تھے۔

بشکریہ -تسنیم نیوز فارسی-

9:21 صبح اپریل 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔