ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت نے پاکستانیوں کیلئے حج مزید مشکل بنادیا
شیعیت نیوز: ریاست مدینہ کی دعویدارتحریک انصاف کی حکومت نے پاکستانیوں کیلئے حج مزید مشکل بنادیا، وفاقی حکومت کا پاکستانی حاجیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ، سبسڈی کے خاتمے کے باعث ہر پاکستانی حاجی پر مزید تقریباًایک لاکھ روپے کا اضافی بوجھ بڑھ جائے گا،گذشتہ برس تک ایک پاکستانی حاجی کے حج کا کل تخمینہ لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ روپے تھاجبکہ سبسڈی کے خاتمے بعد یہ اخراجات چار لاکھ ساڑھے ستائیس ہزار تک پہنچ جائیںگے۔
پشاور میں تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیرنورالحق قادری نے کہا کہ مدینہ کی ریاست ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے جس کا مقصد عوام کو خوشحالی دینا ہے، وزارت مذہبی امور نے حج پر سبسڈی برقرار رکھنے کی تجویز دی تھی لیکن وزیراعظم اور کابینہ نے اس تجویز کو مسترد کردیا،نورالحق قادری نے مزید کہا کہ حکومت معاشی حالت میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے، حج ہرسال مہنگا ہوتا ہے، صاحب استطاعت لوگ ہی حج کرتے ہیں، جس کے پاس پیسے ہوں وہ حج کے لیے جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حج کی سبسڈی سے غریب اور امیر طبقہ دونوں مستفید ہورہا تھا، حج پر دی جانے والی سبسڈی مفاد عامہ کے دیگر کاموں کے لیے مختص کریں گے،وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے دوران فون آنے پر باہر گیا تھا لیکن اختلافات کا تاثر غلط ہے، آج سینیٹ اس لیے نہیں گیا کیونکہ میں اس تقریب میں شریک تھا، حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی لائے گی۔
واضح رہے کہ حج کو مہنگی اور مشکل عبادت بنانے میں ایک بڑا کردار خود سعودی شاہی حکمرانوں کا ہے جنہوں نے طرح طرح کے ٹیکسز لگا کرغریب مسلمانوں کیلئے بیت اللہ کی زیارت کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کردیئے ہیں ، آل سعود نے مکہ اور مدینہ میں پرآسائش ہوٹلز ، عالی شان مارکیٹس ، ٹریولنگ اوردیگر مناسک حج پر غیر ضروری ٹیکسز لگا کر اضافی بوجھ حاجیوں کے کاندھوں پر ڈال دیاہے،ذرائع کے مطابق مکہ ومدینہ میں بڑے بڑے ہوٹلز ، ریسٹورنٹس ، شاپنگ سینٹرز بڑے بڑے اسٹورزکا ٹھیکہ یہودیوں کو دے دیا ہے، جس کی آمدنی کا بڑا حصہ آل سعود کے بعد یہودی حاصل کرتے ہیں اور شاہی حکومت حاجیوں کے خون پسینے کی کمائی اپنی عیاشیوں پر اڑادیتے ہیں، پاکستانی حکومت کو چاہئے کے وہ سعودی حکومت سے حاجی پر عائد اضافی اور غیر ضروری ٹیکسز کے خاتمے کا مطالبہ کرے تاکہ سبسڈی کے خاتمےکے باوجود حج کے اخراجات میں کمی لائی جاسکےاور ہر مسلمان باآسانی حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرسکے ۔