اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے یمنی شہریوں کا مظاہرہ

12 دسمبر, 2018 11:50

مظاہرین سعودی اتحاد کی جانب سے ایندھن، دوائیں اور غذائی اشیا لانے والے بحری جہازوں کو یمن پہنچنے سے روکے جانے کی مذمت میں نعرے لگارہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد کا یہ اقدام عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن جنگ مسلط کرنے کے ساتھ اس کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سوئیڈن امن مذاکرات میں شریک ریاض کا حمایت یافتہ وفد مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اس نے تعز اور الحدیدہ کے بارے میں اقوام متحدہ کی تجاویز قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس کی نگرانی میں یمن کے بارے میں امن مذاکرات کا چوتھا دور چھے دسمبر سے سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں جاری ہے۔

6:24 شام مارچ 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔