گلگت میں یوم حسین ؑ کی تقریب، شیعہ سنی وحدت کا عملی مظاہرہ
شیعیت نیوز:گلگت سٹی پارک میں یوم حسین ؑ کی تقریب منعقدہ ہوئی، تقریب میں شیعہ سنی عمائدین، علماء سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ تقریب کے موقع پر شیعہ سنی وحدت کا مثالی مظاہرہ دیکھنے کو ملا، اہل سنت علمائے کرام نے یوم حسین کے پروگرام کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اس طرح کے پروگرامز ہر سطح پر ہونے چاہیں، تاکہ ہمارے نوجوانوں میں حسینی سوچ پیدا ہوسکے۔ یوم حسین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس نے کہا ہے کہ جب تک ہم حسینی کردار، گفتار اور اقدار کو نہ اپنائیں، تب تک ہم حسینی دعوے دار تو ہوسکتے ہیں لیکن حقیقی حسینی نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اتوار کے روز گلگت میں یوم حسین ؑ کی تقریب جس میں ہزاروں افراد نے کی شرکت کی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عجیب حسینی ہیں، سال کے گیارہ مہینے بیس دن اپنے پڑوسی کا راستہ بند کرتے ہیں، پانی بند کرتے ہیں، مگر محرم کے دس دن سبیل لگاتے ہیں۔
گیارہ مہینے بیس دن اپنے پڑوسی اور ان بچوں کو بھوکا بلکتے دیکھنے کے باوجود اپنے گھر میں عیاشی کرتے ہیں، جب محرم کے دس دن آتے ہیں تو لنگر لگاتے ہیں، یہ حسینی سوچ نہیں ہے، ایک دعویدار کی سوچ ہے، ہمیں حسینی دعویداری سے نکل کر حقیقی حسینی اقدار اور سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے، جب ہم حقیقی حسینی بن جائینگے تو اس علاقے میں جہاں کہیں پر بھی حسینیت کے خلاف اٹھے گا تو اس کو روکنے کیلئے ہر شخص حسینی کردار ادا کریگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی محافل کا انعقاد ضروری ہے، تاکہ نوجوانوں میں حسینی سوچ، کردار و گفتار اور اقدار منتقل ہوں، اگر حسینی پروگرام، صحابہ کے پروگرام نہیں ہونگے تو سرینا ہوٹل جیسے منحوس پروگرام ہونگے، جہاں پر لوگوں کے بچے اور بچیاں ڈانس کرینگی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامع موتی مسجد کے امام جمعہ والجماعت مولانا خلیل قاسمی نے کہا کہ اس طرح کے بڑے پروگرام کے انعقاد سے کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے، اس خوبصورت محفل کو دوام بخشنے کیلئے کھلے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حسین کی شخصیت کی گفتگو کے ساتھ ساتھ اہل بیت رسول ؑ کی عظمت پر بھی گفتگو ہونی چاہیئے، صحابہؓ کرام کی سیرت پر مبنی گفتگو ہونی چاہیئے، جس کے بعد ہم علاقے میں ایک پرامن معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گے، جس کے بعد گلگت بلتستان پورے علاقے کیلئے رول ماڈل بن جائیگا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نوربخشی عالم دین مولانا شکور علی انور نے کہا کہ ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، یوم حسین کی طرح یوم حسن بھی منانا چاہیئے، اتفاق اور اتحاد ایک عظیم نعمت ہے، یہ دولت بھی ہے اور برکت بھی۔
اسماعیلی کونسل کے ممبر الواعظ کریم خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین ؑ کو پہنچانے کی ضرورت ہے، حسین صرف ذات کا نام نہیں بلکہ نظریئے کا نام ہے، جو بھی دعویٰ کرتا ہے کہ میں حسینی ہوں، وہ اپنے آپ سے سوال کرے کہ کیا وہ واقعی میں حسینی ہے۔؟ جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے رہنما مولانا عطاء اللہ شہاب نے کہا کہ ہم اتفاق کی باتیں نہیں کرتے، ہمیں اتفاق کی باتیں چبھتی ہیں، انتشار کی باتوں پر واہ واہ کرتے ہیں، پاکستان کی سرزمین کے اندر ناموس رسالت کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور مختلف طبقے ان کا ساتھ دے رہے ہیں، پاکستان میں طاغوتی قوتوں کی فرمائش پر ناموس رسالت کو چھیڑا جا رہا ہے، جبکہ عدالت کے پیج و خم میں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلی کوچوں میں یزید للکار رہا ہے، حسینیت کے علمبردار ایک ہو جائیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر مساجد بورڈ راجہ نثار ولی نے کہا کہ جب تک ہم آپس میں نہیں ملیں گے، دوسرے ہمیں خراب کریں گے، کیونکہ لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی چلتی رہی ہے، لیکن جب ہم آپس میں ملیں گے تو کوئی ہمیں خراب نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے، ہم آپس میں راضی کیوں نہیں ہوتے، ہم آپس میں مل بیٹھ کر بحث و مباحثے سے معاملات حل کیوں نہیں کرتے، اصل حسینیت یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں، ایک دوسرے کے مسلک کو نہ چھڑیں، لیکن ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے کئی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔ مجھے یاد ہے 1955-56 میں حالات بہت اچھے تھے، ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہوگا، اس دور میں شیعہ سنی بھائی بھائی کی طرح رہتے تھے، ہم نے کبھی بھی قربانی کے حصے میں شیعہ بھائیوں کو مس نہیں کیا، اس وقت ایک تعلق داری تھی، محبت تھی، بازار بند نہیں ہوتے تھے، لیکن 60 اور 70 کی دہائی کے بعد سے ایسی دشمنی پیدا ہوئی کہ بھائی نے بھائی کو مارنا شروع کر دیا۔
ہمسایوں نے اپنے ہمسایے پر حملہ کرنا شروع کر دیا، گلگت کا بدلہ داریل سے، بسین کا بدلہ کشروٹ سے لینا شروع کر دیا، بعد میں ہمارے علماء، ہمارے بہادر لوگ میدان میں نکلے اور مصالحت کی کوشش کی، یہی وجہ ہے کہ آج یہاں تمام مسالک کے لوگ امن و بھائی چارے سے بیٹھے ہیں، یہ حسین ؑ کے نام کی مہربانی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیز یہ ہے کہ حسین کے نقش قدم پر چلیں، ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ میں اہل سنت ہوں، مجھے چاہیئے کہ میں حضور پاک کی سنت پر عمل کروں، اگر نہیں کرتا تو میں کس طرح کا اہل سنت ہونگا۔ حسینی وہ ہیں، جو حسین کی سیرت پر عمل کریں، آپ جلوس نکالیں، ہم احترام کریں گے، پہلے دل آزار نعرے لگتے تھے، اب نہیں لگتے، کیونکہ ہم خود جلوس میں شریک ہوتے ہیں، اسی طرح کا مظاہرہ پورے گلگت میں ہونا چاہیِے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استور امامیہ مسجد کے امام جمعہ والجماعت سید عاشق حسین الحسینی نے کہا کہ امام حسین نے اپنی قربانی سے شریعت محمدی اور رسالت محمدی کو بچایا، امام حسین تمام انسانوں کے محسن ہیں۔ امام حسین نے کربلا کو رزم گاہ سے درسگاہ میں تبدیل کیا، اس درسگاہ سے اطاعت، عبادت، شجاعت، استقامت اور صبر و شکر کا درس ملتا ہے۔ یوم حسین کی تقریب سے شیخ بلال سمائری، فدا علی ایثار، وزیر مظفر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ وقت کی کمی کے باعث علامہ سید راحت حسین الحسینی کو خطاب کا موقع نہ مل سکا، انہوں نے صرف شکریہ ادا کیا اتوار کے روز دن دو بجے سٹی پارک گلگت یوم حسین کی تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا اور چاروں مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے تقریباً گیارہ علمائے کرام نے خطاب کیا۔
علامہ سید راحت حسین الحسینی خطاب کیلئے سٹیج پر پہنچے تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی، جس پر انہوں نے اپنا خطاب ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ میں مقصد شہادت امام حسین ؑ کو تفصیل سے بیان کرنا چاہتا تھا، مگر اب وقت نہیں ہے، صرف اتنا کہوں گا کہ اگر ہم کردار حسینی کو اپنانا چاہتے ہیں تو اپنے گھروں، اپنے معاشرے اور اپنی خلوتوں میں دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کریں، یہی مقصد شہادت حسین ؑ کا خلاصہ ہے۔ انہوں یوم حسین کمیٹی اہل سنت والجماعت، مسجد بورڈ، عوامی ایکشن کمیٹی، اسماعیلی ریجنل کونسل، امامیہ کونسل کے رہنماؤں اور ڈپٹی کمشنر گلگت، ایس پی گلگت اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ ان سب کی کوششوں کی وجہ سے یوم حسین کے پروقار پروگرام کا انعقاد ممکن ہوسکا۔








