بصرہ سے نجف تک کرپشن کیخلاف احتجاج ،تشدد میں بدل گیا
بصرہ سے شروع ہونے والا عوامی احتجاج اب مقدس شہر نجف اشرف میں داخل ہوا جبکہ ذی قار اور ناصریہ میں بھی عوامی احتجاج نے تشدد کا رخ اختیار کر لیا ہے
اس عوامی احتجاج کے بنیادی مطالبات بجلی اور پانی کی فراہمی اور بے روزگاری کا خاتمہ جیسے مسائل ہیں جو کرپشن کے سبب باوجود وسیع تر بجٹ کے تعطل کا شکار ہیں
عراقی وزیراعظم کا کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے شائد عوامی مظاہروں میں کچھ فرق پڑ سکتا ہے لیکن جب تک ان مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائیں جائیں ایشو حل نہیں ہوگا
نجف اشرف میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے سبب نجف کا انٹرنیشنل ائرپورٹ بیروبی پروازوں کے لئے بند کردیا گیا ہے اور بہت سی ائرلائنز نے اپنی پروازیں روک دیں ہیں
عراقی حکومت کے ترجمان سعد الحدیثی کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے پچھے کرپشن مافیا کا ہاتھ ہے جو عوامی احتجاج کو ہائے جیک کرنا چاہتی ہے
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض مخصوص چھوٹے چھوٹے گروہ عوامی احتجاج کے رخ کو مخصوص اہداف کی جانب موڑنے کی کوشش میں دیکھائی دیتے ہیں ۔
ادھر بصرہ اور نجف میں مظاہرین نے بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کو آگ لگادی ہے جبکہ آخری اطلاعا ت کے مطابق احتجاج مسلسل بڑھتا جارہا ہے ۔
ہم آنے والے مضامین میں اس احتجاج کے پچھے پوشیدہ حقائق کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کرینگے