ایم ایم اے اختلا ف کا شکار جے یو آئی اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں لڑے پڑے، امریکا سے ڈیل کا انکشاف
شیعیت نیوز: پانچ مذہبی جماعتوں کا اتحاد بعنوان متحدہ مجلس عمل کی دوبڑی مذہبی جماعتیں خیبر پختونخوا میں الیکشن امیدواروں کے ٹکٹ تقسیم کے مسئلے پر لڑپڑی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) خیبر پختونخوا کے متعدد ڈسڑکس سے اپنی جماعت کے امیدوار کھڑا کرنا چارہی ہیں جس پر دونوں جماعتوں میں شدید اختلاف ہوگیا ہے، جبکہ یہ خطرہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ان مذہبی جماعتوں کا اتحاد ختم نا ہوجائے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا ہےجماعت اسلامی 2002 کے الیکشن کی بنیاد پر تمام ڈسٹرکس میں اپنے امیدوار لانا چاہتی ہے جبکہ جے یو آئی 2013 کے الیکشن پول کے نتائیج کی بنیاد پر ٹکٹ کی تقسیم چاہتی ہے۔
جے یو آئی کے مطابق جماعت اسلامی بونیر کے حلقہ سے ایم این اے کی سیٹ پر ٹکٹ مانگ رہی ہے جبکہ بونیر سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر جیتا ہو ایم این اے تحریک انصاف میں شامل ہوچکا ہے۔
ذرائع کے مطابق کے پی کے میں جماعت اسلامی اور جے یو ائی کے درمیان ٹکٹس کی بندر بانٹ جارہی ہے اور دیگر تین مذہبی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، جبکہ اسی طرح کی ملی جھلی کفیت متحدہ مجلس عمل کے پلٹ فارم سے ملک بھر میں بھی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) متحدہ مجلس عمل کے پلٹ سے خوب فائدہ اُٹھائیں گی۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق کا کہنا ہے کہ عید کے بعد ٹکٹس کی تقیسم پر اختلافات کو دور کیاجائے گا، اس دورا ن انہوں نے دب لفظوں میں تنقید کرتےہوئے کہا کہ امریکا کی حمایت سے ہمیں حکومت نہیں چاہئے،انہوں نے کہا کہ امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید مولانا فضل الرحمن نے الیکشن 2018 کے لئے امریکا سے کوئی ڈیل کرلی ہے جس پر جماعت اسلامی راضی نہیں۔