کراچی میں یومِ القدس کی مرکزی ریلی، ہزاروں افراد کی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی
شیعیت نیوز: جمعۃ الوداع کے موقع پر عالمی یوم القدس کے سلسلے میں کراچی سمیت ملک بھر میں قبلۂ اول کی آزادی کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ کراچی میں تحریک آزادیٔ القدس پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی ریلی ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی سے تبت سینٹر تک نکالی گئی، جس میں مختلف مسالک و مذاہب کے علما و عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، وکلا، ڈاکٹرز، خواتین، بچوں اور شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
نمائش چورنگی سے شروع ہونے والی ریلی تبت سینٹر پہنچ کر ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی۔ جلسہ گاہ میں کمسن طالبات نے ایران کے علاقے میناب میں شہید ہونے والی اسکول کی بچیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ پنڈال میں ان کی یاد میں بستے اور پھول بھی رکھے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : گلیلی میں ایرانی میزائل حملہ، 80 صیہونی آبادکار زخمی
ریلی کے شرکا فلسطینی پرچم، پلے کارڈز اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور امریکا، اسرائیل اور بھارت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
ریلی و جلسہ عام سے آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی، وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا امین شہیدی، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ یوم القدس صرف فلسطینیوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد فکر انسانوں اور مظلوم اقوام نے امام روح اللہ خمینی کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے استعماری قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔
مقررین کے مطابق عالم اسلام اس وقت کٹھن حالات سے گزر رہا ہے، تاہم محورِ مقاومت سے وابستہ بیدار نوجوانوں کی موجودگی میں "گریٹر اسرائیل” جیسے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، اسرائیل، برطانیہ اور بھارت امت مسلمہ کے خلاف جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور ایران پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مقررین نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ اجتماع مظلوم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی حمایت کے باعث انقلاب اسلامی ایران اور محورِ مقاومت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم دشمن ہمیشہ محاذِ حق کے بارے میں غلط اندازے لگاتا ہے۔
فلسطین کی مکمل آزادی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے نام نہاد بورڈ آف پیس سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت اہم معاملات پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل کو ایک مضبوط پاکستان قبول نہیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، لہٰذا قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ پاکستان واضح طور پر امت مسلمہ کے مفادات کا دفاع کرے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور وزیر اعظم قومی پالیسی کی وضاحت کریں۔
انہوں نے حالیہ احتجاج کے دوران امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ، لاٹھی چارج اور شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں متعدد افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ مقررین نے شہدا کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی بھی کیا۔
ریلی کے اختتام پر امریکی، اسرائیلی اور بھارتی جھنڈوں اور "بعل” نامی شیطان کے علامتی مجسمے کو نذرِ آتش کیا گیا۔







