نفرت انگیز تقاریر کی آزادی سے دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے، مقررین
شیعیت نیوز: نفرت انگیز تقاریر کی آزادی اور قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے معاشرے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، کثیر الوجود معاشرے میں رواداری ، تحمل اور بردباری جیسے عوامل کو عام کر کے اظہار رائے کو متوازن اور معتدل بنایا جا سکتا ہے، مضبوط معاشرے کی تعمیر کیلئےبہترین اقدامات ہوں گے، باہمی اتفاق رائے کیلئےنوجوانوں ، علماء ، پارلیمان، سماجی اداروں، دانشوروں ، طلباء ، اساتذہ، سیاسی اکابرین کو مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، معاشرے کی مثبت خطوط پر تعمیر نوجوان نسل کی طرف سے بہترین اور پائیدار سرمایہ کاری ثابت ہو گی۔ان خیالات کا اظہارمقررین نے پالیسی برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی مباحثہ برائے ’’کثیر الوجود معاشرے میں ہم آہنگی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل ‘‘ کے موضوع پراظہار خیال کرتے ہوئے کیا، جس میں یورپ سمیت ایشیا سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ مباحثہ میں یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ برائے مذہبی آزادی و امور مسٹر جان فیگل ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز، رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم ، ایس ڈی پی آئی کے سر براہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام و دیگر نے اظہار خیال کیا۔ جان فیگل نے کہا کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مذاہب میں خلیج بڑھ رہی ہے ۔ اسی کے سبب عدم برداشت ، سماجی رواداری اور عدم توازن جیسے مسائل میں اضافہ بڑی مشکلات ہیں۔ پاکستان بشمول یورپی یونین کو ان مشکلات کے حل کے لئے مشترکہ اہداف کی نشاندہی کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے ذریعے باہمی احترام ، قبولیت اور رواداری جیسے مقاصد کو مل کر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کثیر الوجود معاشرے کو درپیش ایسی مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کی ذمہ داری معاشرے کے نمائندہ افراد کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کو ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل کر لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے تاکہ امن اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے معاشروں کے ارتقائی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں رو نما ہو ئی ہیں جس سے ان کی ہیئت پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں ایک دوسرے کے تجربات اور مشاہدات سے سیکھنا چاہئے۔ قبلہ ایاز نے کہا کہ ہمیں اپنی نسلوں کو احترام باہمی رواداری کا درس دیتے ہوئے مثبت راہِ عمل دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ 1973کا دستور مستند دستاویز ہے جس میں معاشرے کو در پیش متعدد مسائل کا کافی حد تک حل موجود ہے۔








