آرمی پبلک اسکول حملہ، سپریم کورٹ کا وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس

20 اپریل, 2018 09:53

شیعیت نیوز: آرمی پبلک اسکول حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کو نوٹسز جاری کردیئے۔ والدین چیف جسٹس کے سامنے دلبرداشتہ ہوکر رو پڑے تھے، جس پر چیف جسٹس نے ان سے کیس کو دیکھنے اور ان کے مطالبات کو سمجھنے کیلئے ایک ہفتے کا وقت طلب کرلیا۔ فل بینچ جس کے دیگر ممبران میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عمر عطا بندیال شامل ہیں نے رجسٹرار کو پشاور ہائی کورٹ میں اے پی ایس حملے سے متعلق زیر التواء پٹیشنز کو طلبی کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا یا تو وہ خود پشاور کا دورہ کریں گے یا پھر ایک اور بینچ تشکیل دیں گے جو ان والدین کی داد رسی کرے گا۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس اس وقت لیا جب کچھ شہید بچوں کے والدین نے چیف جسٹس سے کیس کی سماعت کے دوران فریاد کی۔ شہید طالب علم اسفند خان کی والدہ نے اے پی ایس شہیدوں کے حوالے سے مسائل چیف جسٹس کو سناتے ہوئے رو پڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج تک اپنے بیٹے کو تھپڑ نہیں مارا تھا جب کہ دہشت گردوں نے ان کے بیٹے پر 6 گولیاں داغیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 سالوں سے وہ انصاف کیلئے در بدر پھر رہی ہیں لیکن انہیں انصاف نہیں مل رہا۔

تقریباً تمام ہی نے شکایت کی کہ حملوں سے چند ہفتوں قبل قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) نے دہشت گردوں کے منصوبے کے حوالے سے اطلاع دے دی تھی، تو اس کو روکنے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے گئے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ایک غیر جانبدار جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیئے تاکہ اسے نظر انداز کرنے والے متعلقہ حکام کو سبق سکھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکام اس معاملے پر انکوائری کرنے میں اتنا شرما کیوں رہے ہیں۔ ایک ماں نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انصاف کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے اور اگر آپ ہمیں انصاف دینے میں ناکام ہوتے ہیں تو آپ کو روز محشر جواب دینا ہوگا، میرا ایک ہی بیٹا تھا جسے دہشت گردوں نے قتل کردیا اور میں اب بھی نہیں جانتی کے اس کے قتل کا ذمہ دار کون ہے۔ چیف سیکرٹری اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ والدین کا بنیادی مطالبہ اس معاملے میں جوڈیشل انکوائری کرانا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت نے اب تک انکوائری کا حکم کیوں نہیں جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام بچوں کیلئے والد کی طرح ہیں اور ان سب کو انصاف دلائیں گے۔

11:40 صبح اپریل 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔