عراق کی بعث پارٹی سعودی واسرائیلی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش کررہی ہے،عرب روزنامہ
بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک عرب روزنامہ نے انکشاف کیا ہے کہ عراقی بعث پارٹی کے بعض لیڈران سعودی عرب اوراسرائیل کی حمایت سے سیاسی منظرنامے میں دوبارہ واپس آنے کی کوشش کررہے ہیں۔
القدس العربی نے اپنے ایک رپورٹ میں انکشاف کیاکہ عراقی بعث پارٹی کے بعض لیڈران سعودی عرب اوراسرائیل کی حمایت سے سیاسی منظرنامے میں دوبارہ واپس آنے کی کوشش کررہے ہیں
روزنامہ نے انکشاف کیاکہ تحالوف الکوا سنی اتحاد کے اراکین نے حال ہی میں اردن کے دارالحکومت عمان میں صیہونی سفیر کےساتھ خفیہ ملاقات کی ۔
روزنامہ نے انکشاف کیاکہ اس میٹنگ کی منصوبہ بندی کئی ماہ پہلے کی گئی تھی اورحال ہی میں اردن میں یہ میٹنگ انجام پائی جس میں الکوا کے ممبران نے صیہونی سفیر اوراس کے نائب کےساتھ سخت سیکورٹی میں ملاقات کی ۔
ادھر عرب نیوز ویب سائٹ صدر الخلیج نے ایک اعلیٰ سیاسی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیاکہ بعث پارٹی کے سینئر لیڈر احمد عبدالمجید نے بغداد میں این ایچ جی نامی پارٹی کے ایک فورم میں شرکت کی ۔
باخبرذرائع نے کہاکہ یہ اجلاس بغداد میں سعودی عرب کے سابق سفیر سمیر الصبحان کے حمایت سے انجام پایا اوراس اجلاس کا مقصد ایک نئے عنوان کے تحت بعث پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔
اسی طرح کے بیان میں ماہ اگست میں سابق عراقی قانون ساز نے انکشاف کیاتھا کہ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیر عراق میں بعث لیڈران کےساتھ مذاکرات کررہے ہیں تاکہ ایک نئے نام کے تحت اس پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لایا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس مستند انٹیلی جنس ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ صدام کی بعث پارٹی کے لیڈران سے خفیہ طورپر مذاکرات کررہا ہے۔








